• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 5476

    عنوان:

    میں نے اس آمدنی کے متعلق سوال کیا تھا جو کہ اس سرٹیفیکٹ کے ذریعے حاصل کی جاتی ہے جو کہ مردوں کے لیے بنائی جاتی ہے تاکہ اس کو جلایا جاسکے۔ اس کا جواب دارالعلوم دیوبند کی ویب سائٹ پر دیا جاچکا ہے۔میں اس ضمن میں مزید کچھ معلومات فراہم کررہا ہوں۔ دراصل انگلینڈ میں ڈاکٹر لوگ دو طرح کا سرٹیفیکٹ جاری کرتے ہیں ایک موت کا سرٹیفیکٹ جو موت کے بارے میں ہوتا ہے، اور دوسرا سرٹیفیکٹ وہ ہے جو اس وقت دیا جاتا ہے جب متوفی کے رشتہ دار وغیرہ لاش کو جلانا چاہتے ہیں۔ چونکہ انگلینڈ میں زیادہ تر لوگ اپنے رشتہ داروں کوجلا دیتے ہیں اس لیے کہ جلانے میں دفن کرنے کے مقابل کم خرچ آتا ہے ۔اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی آدمی دفن کرنے کے بجائے اپنے جلانے کی وصیت بھی کرجاتا ہے۔ مردے کو دفن کرنے یا جلانے کی شفارش کرنا ڈاکٹروں کی ڈیوٹی میں نہیں آتا ہے، تاہم جب کوئی مردہ کو جلانا چاہتا ہے تو ڈاکٹر وں کو چند چیزیں ایک الگ شکل میں(عام موت سرٹیفکٹ کے علاوہ)یقینی بناناہوتا ہے۔ یہ زائد چیزیں عام طور یہ بتاتی ہیں کہ موت مشکوک نہیں تھی، اور پوسٹ مارٹم کی ضرورت نہیں تھی اور یہ کہ مردہ محفوظ ہے مثال کے طور پربدن میں کوئی مصنوعی جوڑ نہیں ہے جس کو مردہ کو جلانے سے پہلے الگ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب ڈاکٹر لوگ یہ خاص سرٹیفیکٹ جاری کرتے ہیں تو ان کو اس کا معاوضہ ملتا ہے۔ کیا یہ آمدنی اسلام کی رو سے جائز ہے؟ میرے تجربے کے مطابق میں نے لندن میں صرف غیر مسلموں کو اپنے رشتہ داروں کو جلاتے ہوئے دیکھا ہے، اور میں نے کبھی بھی کسی مسلمان کو اس سرٹیفکٹ کو بنواتے ہوئے نہیں دیکھا ہے۔

    سوال:

    میں نے اس آمدنی کے متعلق سوال کیا تھا جو کہ اس سرٹیفیکٹ کے ذریعے حاصل کی جاتی ہے جو کہ مردوں کے لیے بنائی جاتی ہے تاکہ اس کو جلایا جاسکے۔ اس کا جواب دارالعلوم دیوبند کی ویب سائٹ پر دیا جاچکا ہے۔میں اس ضمن میں مزید کچھ معلومات فراہم کررہا ہوں۔ دراصل انگلینڈ میں ڈاکٹر لوگ دو طرح کا سرٹیفیکٹ جاری کرتے ہیں ایک موت کا سرٹیفیکٹ جو موت کے بارے میں ہوتا ہے، اور دوسرا سرٹیفیکٹ وہ ہے جو اس وقت دیا جاتا ہے جب متوفی کے رشتہ دار وغیرہ لاش کو جلانا چاہتے ہیں۔ چونکہ انگلینڈ میں زیادہ تر لوگ اپنے رشتہ داروں کوجلا دیتے ہیں اس لیے کہ جلانے میں دفن کرنے کے مقابل کم خرچ آتا ہے ۔اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی آدمی دفن کرنے کے بجائے اپنے جلانے کی وصیت بھی کرجاتا ہے۔ مردے کو دفن کرنے یا جلانے کی شفارش کرنا ڈاکٹروں کی ڈیوٹی میں نہیں آتا ہے، تاہم جب کوئی مردہ کو جلانا چاہتا ہے تو ڈاکٹر وں کو چند چیزیں ایک الگ شکل میں(عام موت سرٹیفکٹ کے علاوہ)یقینی بناناہوتا ہے۔ یہ زائد چیزیں عام طور یہ بتاتی ہیں کہ موت مشکوک نہیں تھی، اور پوسٹ مارٹم کی ضرورت نہیں تھی اور یہ کہ مردہ محفوظ ہے مثال کے طور پربدن میں کوئی مصنوعی جوڑ نہیں ہے جس کو مردہ کو جلانے سے پہلے الگ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب ڈاکٹر لوگ یہ خاص سرٹیفیکٹ جاری کرتے ہیں تو ان کو اس کا معاوضہ ملتا ہے۔ کیا یہ آمدنی اسلام کی رو سے جائز ہے؟ میرے تجربے کے مطابق میں نے لندن میں صرف غیر مسلموں کو اپنے رشتہ داروں کو جلاتے ہوئے دیکھا ہے، اور میں نے کبھی بھی کسی مسلمان کو اس سرٹیفکٹ کو بنواتے ہوئے نہیں دیکھا ہے۔

    جواب نمبر: 5476

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 713=662/ د

     

    جن امور کو یقینی بنانے کے لیے مثلاً موت مشکوک نہیں تھی الی قولہ مصنوعی جوڑ نہیں ہے سارٹیفکٹ جاری کیا جاتا ہے، اگر یہ امور خلاف واقع نہیں ہیں اور سچا سارٹیفکٹ جاری کیا جارہا ہے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ اس کا معاوضہ لینا بھی درست ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند