• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 5432

    عنوان:

    میں گردہ پیوند کاری کے بارے میں مطالعہ کررہاہوں۔ پاکستان میں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اسلام ایسے کاموں کی ہمت افز ائی کرتاہے جس سے کسی کی زندگی بچ جائے اور گردہ و دیگر عضو کی پیوند کاری سے اسلام منع نہیں کرتاہے اس لیے لوگوں کو اپنے انتقال سے پہلے اپنے گردے اور دوسرے اعضاء دان کردینا چاہئے، ان کے انتقال کے بعد ان کے اعضاء نکال کر ان کی پیوندکاری کی جائیگی تاکہ لوگوں کی جان بچ جائے۔ براہ کرم، اس سلسلے میں مفصل فتوی ارسال فرمائیں۔

    سوال:

    میں گردہ پیوند کاری کے بارے میں مطالعہ کررہاہوں۔ پاکستان میں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اسلام ایسے کاموں کی ہمت افز ائی کرتاہے جس سے کسی کی زندگی بچ جائے اور گردہ و دیگر عضو کی پیوند کاری سے اسلام منع نہیں کرتاہے اس لیے لوگوں کو اپنے انتقال سے پہلے اپنے گردے اور دوسرے اعضاء دان کردینا چاہئے، ان کے انتقال کے بعد ان کے اعضاء نکال کر ان کی پیوندکاری کی جائیگی تاکہ لوگوں کی جان بچ جائے۔ براہ کرم، اس سلسلے میں مفصل فتوی ارسال فرمائیں۔

    جواب نمبر: 5432

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 32/ م= 33/ م

     

    بے شک اسلام ایسے کاموں کی ہمت افزائی کرتا ہے جس سے کسی کی زندگی بچ جائے لیکن شرط یہ ہے کہ جائز طریقے پر ہو، اعضاء انسانی کی پیوند کاری کی تین صورتیں ہیں جن میں سے دو جائز اور ایک ناجائز ہے۔ ایک صورت یہ ہے کہ انسان کے عضو کا بدل جمادات یا نباتات وغیرہ سے تلاش کیا جائے اور فنی مہارت کے ذریعہ اس کو کارآمد بنایا جائے جیسے مصنوعی دانت، مصنوعی آلہٴ سماعت وغیرہ ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ حیوانات کے اعضاء سے یہ کام لیا جائے جیسے جانور کی ہڈی، چمڑے بال وغیرہ کو مختلف قسم کے کاموں میں استعمال کرتے ہیں، یہ دونوں صورتیں ہرحیثیت سے بے خطر بے ضرر ہیں اس لیے جائز ہیں۔ تیسری صورت انسانی اعضاء سے دوسرے انسان کے علاج کی ہے، اس میں اگرچہ فوائد ہیں لیکن اس کے ساتھ بہت سے مضر پہلو بھی ہیں، جو پوری انسانیت کے لیے تباہی کا راستہ بن سکتے ہیں، انسان کو اللہ تعالیٰ نے مکرم بنایا ہے اور یہ بات انسانی شرافت و تکریم کے بالکل منافی ہے کہ اس کے اعضاء کو کاٹ تراش کرکے استعمال کیا جائے، لہٰذا یہ خیال کسی طرح درست نہیں کہ آدمی کو اپنے انتقال سے پہلے اپنے گردے اوردوسرے اعضاء دان کردینا چاہیے، انسان اپنے اعضاء کا خود مالک نہیں، اسی وجہ سے انسان کو جس طرح خود کشی کرنا حرام ہے اسی طرح اپنا کوئی عضون کسی دوسرے کو رضاکارانہ طور پر بلامعاوضہ دینا بھی حرام ہے، فقہاء نے قرآن وسنت کی واضح نصوص کی بنا پر فرمایا ہے کہ جو شخص بھوک پیاس سے مررہا ہو اس کے لیے مردار جانور اور ناجائز چیزوں کا کھانا پینا تو بقدر ضرورت جائز ہوجاتا ہے، مگر یہ بات اس وقت بھی جائزنہیں ہوتی کہ کسی دوسرے انسان کا گوشت کھالے اور نہ کسی انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنا گوشت یا کوئی عضو دوسرے انسان کو بخش دے کیونکہ خرید و فروخت یا بخشش و ہدیہ اپنی ملک میں ہوسکتا ہے، اعضائے انسانی اس کی ملک نہیں جو وہ کسی کو دے سکے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند