• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 53507

    عنوان: افیون کے چہلکے کہانے کیاحکم هی ؟؟

    سوال: افین کی چھلکی کہانی کیا حکم ہی واضح رہی کہ اصل مواد جس سی بودر بنتا ہی وہ تو بیج دیا جاتا ہی پہر چھلکا رہ جاتا اسمین کچ ذرات ہوتی ہین جسمین نہ نشہ ہوتا یہ جہلکی اندر ہوتا ہی اور چھلکی مین بہی نشہ نہین ہوتا برای مہربانی فقہ کی روشنی مدلل جواب عنایت فرمایین اردو زبان کمبیوتر نہلین اس واسطی اردو کی غلطیان ضرور ہون

    جواب نمبر: 53507

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1335-1335/M=11/1435-U افیون جب کہ حدّ سکر کو پہنچ جائے تو باتفاق حرام ہے، لأن کل مسکر حرام، شامی میں ہے: کالبنج والأفیون فلا یحرم قلیلہا بل کثیرہا المسکر․․․ أما الجامدات فلا یحرم منہا إلاّ الکثیر المسکر (شامی: ۱۰/ ۳۶، دار الکتاب دیوبند) علی ہذا پوست خشخاش اگر حد سکر کو نہ پہنچے تو حلال ہے۔ کذا فی فتاوی دار العلوم دیوبند: ۱۵/۶۶-۶۷۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند