• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 50733

    عنوان: سركاری دفتر سے چھٹی كرلینا اور اس چھٹی كی تنخواہ لینا كیسا ہے؟

    سوال: میری بہن ٹیچر ہیں ، حکومت ان کو ایک سال میں ۲۲ سی ایل چھٹیاں دیتی ہے، ، ایک ملازم ایک سال میں ۲۲ سی ایل سے زیادہ نہیں کرسکتا، لیکن میری بہن کی طبیعت خراب رہتی ہے جس کی وجہ سے میری بہن کی ایک سال میں ۲۲ سی ایل سے زیادہ چھٹیاں ہوجاتی ہیں تو میری بہن اکثر اس طرح کرتی ہیں کہ آج چھٹی کرلی تو دوسرے دن کالج جا کر حاضری لگادیتی ہیں اور پھر اس دن جس کی غلط حاضری لگائی ہے ایک دن کی ڈیوٹی کے جتنے روپئے حکومت میری بہن کو دیتی ہے وہ بنا ثواب کی نیت سے صدقہ کردیتی ہیں ، کیا ایسا کرنا جائز ہے؟کیا یہ تنخواہ حرام ہے؟براہ کرم، قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیں۔

    جواب نمبر: 50733

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 372-406/N=4/1435-U شرعی اعتبار سے غلط حاضری لگاکر اس کی تنخواہ لینا درست نہیں اگرچہ لینے کے بعد بلانیت ثواب غربا ومساکین پر صدقہ کردینے کی نیت ہو کیوں کہ ناجائز مال بہرحال ناجائز ہے خواہ ذاتی استعمال کی نیت سے لیا جائے یا غریبوں پر صدقہ کردینے کی نیت سے اس لیے غیر حاضری کے ایام کی تنخواہ حکومت سے وصول ہی نہ کی جائے، اوراگر یہ ممکن نہ ہو یعنی وصول نہ کرنے کی صورت میں حکومت کے خزانہ میں رہنے کے بجائے آفیسران کے ہاتھ لگ جائے توایسی صورت میں پوری تنخواہ وصول کرنے کے بعد غیرحاضری کے ایام کی تنخواہ حکومت کے تعلیمی شعبہ میں کسی عنوان سے واپس کردی جائے، اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو حکومت کے کسی اور محکمہ میں واپس کردی جائے یا بلانیت ثواب غربا ومساکین پر صدقہ کردی جائے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند