• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 5050

    عنوان:

    میرے ایک ساتھی کوگندی فلمیں دیکھنے کی عادت ہے۔ وہ جانتا ہے کہ یہ برا کام ہے اور اس سے چھٹکارا چاہتا ہے لیکن نہیں کرسکتا ہے۔ نیز اس نے اس پر بہت سی مرتبہ توبہ کیا، لیکن پھر بھی وہ اپنے آپ کو اس گناہ سے نہیں روک سکا۔برائے کرم قرآن اور حدیث کی روشنی میں بتائیں کہ یہ کتنا بڑا گناہ ہے اور اس برائی سے نجات پانے کی اور اپنے نفس پر کنٹرول کرنے کی کیاشکل ہے؟

    سوال:

    میرے ایک ساتھی کوگندی فلمیں دیکھنے کی عادت ہے۔ وہ جانتا ہے کہ یہ برا کام ہے اور اس سے چھٹکارا چاہتا ہے لیکن نہیں کرسکتا ہے۔ نیز اس نے اس پر بہت سی مرتبہ توبہ کیا، لیکن پھر بھی وہ اپنے آپ کو اس گناہ سے نہیں روک سکا۔برائے کرم قرآن اور حدیث کی روشنی میں بتائیں کہ یہ کتنا بڑا گناہ ہے اور اس برائی سے نجات پانے کی اور اپنے نفس پر کنٹرول کرنے کی کیاشکل ہے؟

    جواب نمبر: 5050

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 386=386/م

     

    آنکھ اللہ تعالی کی عظیم الشان نعمت ہے، اس کو گندی فلمیں اور فحش مناظر کے دیکھنے میں صرف کرنا نعمتِ خداوندی کی ناقدری اور ناشکری ہے اوراس نعمت کے سلب ہوجانے کا اندیشہ ہے۔ اور کسی گناہ کی عادت پڑ جانا تو انتہائی خطرناک امر ہے، تاہم اس گناہ سے بچنا اور نفس پر کنٹرول پالینا انسانی طاقت و قوت سے بالا تر نہیں ہے ، بلکہ آدمی کے اختیار میں ہے صرف تھوڑی سی ہمت کی ضرورت ہے، اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ دل میں جب بھی گناہ کا داعیہ پیدا ہو تو آدمی اس کے تقاضوں پر عمل نہ کرے، گناہ پر عذاب شدید کا استحضار کرے، اوردل میں یہ تصور جمائے کہ گناہ کی لذت فانی ہے اوراس سے بچنے پر جو تکلیف و مشقت ہوتی ہے اس کا ثواب دائمی ہے، اور اپنے اوپر یہ لازم کرلے کہ اگر گناہ ہوا تو سو رکعت نمازپڑھوں گا، ایک ماہ کے روزے رکھوں گا اور اپنی آمدنی کا نصف حصہ خیرا ت کروں گا وغیرہ وغیرہ۔اللہ آپ کو گناہوں سے بچنے کی توفیق دے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند