• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 47951

    عنوان: فیملی پلاننگ، نس بندی، اسقاط حمل

    سوال: (۱) میں فیملی پلاننگ (نس بندی) کے بارے میں جانناچاہوں گا، اسلام میں ممنوع ہے یا گناہے؟ (۲) اگر میرے پاس دو سے زیادہ بچے ہوں اور میں آج کے حساب سے ان بچوں کی ضروریات جیسے اسلامی تعلیم و تربیت ، پوری نہیں کررپا رہا ہوں، یا میرے صرف دوبچے ہوں اور میں مذہب اسلام کے مطابق ان بچوں کی ضروریات پور کرسکتاہوں تو کیا بہتر ہے؟ براہ کرم، اس پر روشنی ڈالیں۔

    جواب نمبر: 47951

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(د): 1786=1427-12/1431 ضبط ولادت کی دو شکل ہوتی ہے: (۱) کلی طور پر قوت ولادت ختم کردی جائے جس کو نس بندی سے تعبیر کرتے ہیں۔ (۲) منع حمل کی ایسی تدابیر اختیار کرنا جس میں صلاحیت تو باقی رہے مگر اولاد کا امکان نہ ہو، مثلاً: نرودھ لوپ کا استعمال کرکے رحم میں نطفہ نہ پہنچنے دیا جائے، استقرار حمل سے مانع ادویات کا استعمال کیا جائے، استقرار کے بعد قبل الخلقت یا اس کے بعد حمل کو ساقط کرادیا جائے یا کسی خاص ایام میں بیوی سے صحبت کی جائے جس میں طبی تحقیق کے مطابق حمل ٹھہرنے کا غالب امکان ہو۔ نسبندی سے قریب جو صورت قرن اول میں معروف تھی وہ ”اختصاء“ (خصیتین کا نکال دینا) تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس کے متعلق بعض صحابہ نے استفسار کیا تھا کہ آپ ہمیں اختصاء کی اجازت دیں تاکہ جنسی خواہشات یکسر ختم ہوجائے اور اللہ کی عبادت یکسوئی سے کرسکیں اور فریضہٴ جہاد بہ حسن وخوبی انجام پذیر ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس عمل سے سختی سے منع کیا اور اس فعل کے حرام ہونے کے متعلق یہ آیت پڑھی: ﴿یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبَاتِ مَآ اَحَلَّ اللّٰہُ لَکُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا، اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ﴾ (المائدہ:۸۷) بخاری شریف باب ما یکرہ من التبتل والخصاء میں ابن مسعود اور ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے اس قسم کی روایات موجود ہیں۔ نیز اس طریقہ سے قوت تولید کو ختم کردینا تغییر خلق اللہ کے زمرہ میں آتا ہے جو ناجائز وحرام ہے۔ لَآمُرَنَّہُمْ فَلَیُغَیِّرَنَّ خَلْقَ اللّٰہِ (النساء: ۱۱۹) روي عن أنس وعکرمة أن معنی تغییر خلق اللہ ہو الإخصاء وقطع الآذان (تفسیر کبیر: ۱۱/۳۹، ط: بیروت) اس سے معلوم ہوا کہ ایسی صورت اختیار کرنا جس سے جنسی خواہش ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے اور تولید کی قابلیت باقی نہ رہے مطلقاً حرام وناجائز ہے خواہ اس میں کتنے ہی فوائد نظر آئیں۔ علامہ عینی نے لکھا ہے کہ قطع نسل کا یہ عمل باتفاق حرام ہے: وہو محرم باتفاق (عمدة القاري: ۲/۷۲) مثلہ في الدر: أما خصا الآدمي فحرام (درمختار: ۹/۵۵۷، ط: زکریا)۔ ضبط ولادت کی دوسری شکل یہ ہے کہ صلاحیت تولید تو باقی رہے مگر ایسی صورت اختیار کی جائے جس سے ولادت نہ ہوسکے، قرون اولیٰ میں اس کے لیے عزل کی صورت اختیار کی جاتی تھی، مجموعہٴ احادیث پر نظر کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت عزل کرنا مختلف اغراض کے تحت ہوتا تھا: مثلاً: باندی سے اولاد نہ ہو تاکہ گھر کے کام کاج میں پریشانی نہ ہو، یا باندی ام ولد نہ بن جائے ورنہ اس کو فروخت کرنا جائز نہ ہوگا، زمانہٴ رضاعت میں حمل ٹھہرنے نہ پائے تاکہ شیرخوار بچہ کی صحت متأثر نہ ہو، صحابہٴ کرام کا کوئی غیرشرعی یا ناجائز عمل پیش نظر نہ تھا، اس لیے آپ نے ان کو اس سے منع نہیں فرمایا، اگر عزل کرنے والے کا مقصد کوئی ناجائز امر یا نصوص شرعیہ کے خلاف کام ہوتا تو آپ اس سے ضرور منع فرماتے۔ عزل کے متعلق احادیث مسلم: ۱/۴۶۵، بخاری: ۲/۷۸۴ وغیرہ میں مذکور ہیں، اگر ان روایات کو یکجا کرکے دیکھا جائے تو واضح ہوگا کہ صحابہٴ کرام نے جہاں عزل کی اجازت طلب کی ہے یا عزل کیا ہے وہ انھیں مذکورہ صورتوں میں منحصر ہے، اس میں رزق کی تنگی کے پیش نظر کہیں بھی نہ اجازت طلب کی گئی ہے اور نہ آپ نے اس کی اجازت دی ہے، بلکہ اگر بہ نظر انصاف دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ آپ نے مذکورہ حالات میں بھی عزل کی ہمت افزائی کہیں نہیں فرمائی بلکہ ناپسندیدگی یا اس کے فضول ہونے کا اشارہ فرمایا ہے، خلفائے اربعہ ابن عمر، ابن مسعود ابوامامہ باہلی رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین اس کی کراہت کے قائل تھے، اس لیے عام حالات میں فقہائے کرام نے اس کو مکروہ اور ناپسندیدہ قرار دیا ہے، اگر رزق ومعاش کی تنگی پیش نظر ہو تو پھر اس کے عدم جواز میں کوئی شبہ نہیں رہے گا۔ نکاح کا مقصد اصلی توالد وتناسل ہے اسی کو قرآن نے استعارہ میں یوں کہا ہے: ﴿فَاْتُوْا حَرْثَکُمْ اَنّٰی شِئْتُمْ﴾ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی توضیح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”تناکحوا تناسلوا“ (احیاء علوم الدین: ۲/۲۵، ط: لبنان) امام غزالی نے حضرت عمر کا قول نقل کیا ہے کہ میں صرف بچوں کے لیے شادی کرتا ہوں (حوالہٴ سابق) ضبط ولادت کے جو مہلک اثرات معاشرہ پر پڑتے ہیں وہ انتہائی تباہ کن، مہلک اور خطرناک ہیں، زنا، فحاشی کی کثرت، شرح طلاق میں اضافہ، خودغرضی اور ہوس رانی کا فروغ وغیرہ، یہ وہ معاشرتی جراثیم ہیں جو ایک پاکیزہ معاشرہ اور پُراَمن ماحول کو پلید کرنے میں کلیدی رول ادا کرتے ہیں، ان ساری وجوہات کی بناء پر اس عمل کے مکروہ ہونے میں کوئی کلام نہیں رہ جاتا ہے۔ البتہ عذر اور مجبوری کے حالات ہرجگہ مستثنیٰ ہوتے ہیں، اس جگہ بھی خاص اعذار کی حالت میں کبھی یہ کراہت رفع ہوسکتی ہے، پہلی شکل جس میں نطفہ کو رحم میں پہنچنے سے روک دیا جاتا ہے، کنڈوم نرودھ کا استعمال کرنا ہے، اس کی درج ذیل اعذار کی بنیاد پر اجازت ہوسکتی ہے: عورت اتنی کمزور ہو کہ وہ بارِحمل کا تحمل نہیں کرسکتی یا پہلا بچہ ایامِ رضاعت میں ہو اور حمل ٹھہرنے کی وجہ سے اس بچے کے لیے ماں کا دودھ مضر ثابت ہو جس سے فطری طور پر اس کے بدن ومزاج میں ضعف اور کمزوری پیدا ہوسکتی ہو، یا بچہ کی پیدائش ماں کی جسمانی دماغی صحت یا اس کی زندگی کے لیے خطرناک ہو اور وہ خطرہ واقعی یا ظن غالب کے درجہ میں ہو یا دو مسلم ماہر طبیب اس کا مشورہ دیں۔ اگر شخصی یا انفرادی طور پر کسی شخص کو یہ اعذار ہوں تو وقتی طور پر اس کے لیے منع حمل کی کوئی تدبیر اختیار کرنے کی گنجائش ہوسکتی ہے، عذر کے رفع ہونے کے بعد اس کے لیے بھی تدابیر منع حمل کا یہ طریقہ ممنوع ہوگا، اس قسم کے اعذار کے علاوہ کسی اور شکل میں منع حمل کی تدابیر اختیار کرنا شرعاً درست نہیں۔ استقرار حمل کے بعد قبل الخلقت یا بعدہ (جس کو فقہاء نے ایک سو بیس دن مقرر کیا ہے) عام حالات میں استقاط کرانا شرعاً ناجائز ہے، البتہ چند ایسے قوی اعذار ہیں جن سے صاحب عذر کو تخلیق اعضاء سے قبل (ایک سو بیس دن (۱۲۰) کے اندر) اسقاط حمل کی اجازت ہوسکتی ہے، ایسے اعذار تین ہیں: (۱) دو ماہر تجربہ کار مسلم ڈاکٹر عورت کا معائنہ کرکے یہ بتادیں کہ اگر یہ حمل باقی رہا تو عورت کیجان یا اس کے کسی عضو کے تلف ہونے کا شدید خطرہ ہے۔ (۲) حمل کی وجہ سے عورت کا دودھ خشک ہوگیا ہو اور دوسرے ذرائع سے بچے کی پرورش کا انتظام ممکن نہ ہو۔ (۳) زنا سے حمل ٹھہرگیا ہو، ان تینوں اعذار میں چار ماہ سے قبل حمل ساقط کرانے کی گنجائش ہے، چار ماہ بعد ان اعذار کی بنیاد پر بھی حمل ساقط کرانے کی اجازت ہرگز نہ ہوگی کیوں کہ اس حالت میں بچہ کے اعضاء بننا شروع ہوجاتے ہیں اور اس میں جان پڑجاتی ہے اور وہ نفس محترم کے حکم میں ہوجاتا ہے جس کی بقاء وحفاظت کرنا مثل زندہ آدمی کے واجب اور ضروری ہے: دلائل درج ذیل ہیں: قال ابن وہبان: فإباحة الإسقاط محمولة علی حالة الأعذار وأنہ لا یأثم إثم القتل (شامي: ۴/۳۳۶، کتاب النکاح، ط: زکریا دیوبند)، ومن الأعذار أن ینقطع لبنھا بعد ظہور الحمل، ولیس لأب الصبي ما یستأجر بہ الظئر ویخاف ہلاکہ (أیضًا) وفي الہدایة: لم یجز إسقاطہ أي الحبل من الزنا، قال محشیہ: لم یجز إسقاطہ أي بالمعالجة وہذا إذا استبان خلقہ أما إذا کان غیر مستبین الخلق فیجوز․ (ہدایہ: ۲/۳۱۱، کتاب النکاح، ط: اشرفی دیوبند) ویکرہ أن تسقی لإسقاطِ حملہا․․․․ وجاز لعذر حیث لا یتصور (درمختار) قولہ جاز لعذر أي یباح لہا أن تعالج في استنزال الدم ما دام الحمل مضغةً أو علقةً ولم یخلق لہ عضو، وقدروا تلک المدة بمائة وعشرین یومًا (در مع الرد: ۹/۶۱۵، کتاب الحظر، ط: زکریا) عزل یا اسقاط کی جو صورتیں اوپر ذکر کی گئیں ہیں، شخصی حالات کو دیکھ کر خاص خاص ضرورتوں کے تحت وقتی طور پر بہ قدر ضرورت ان کے استعمال کرنے کی گنجائش ہوسکتی ہے اور وہ بھی اس وقت جب کہ اس عمل کا مقصد کوئی ناجائز نہ ہو، خصوصاً فقر وافلاس اورمعاشی تنگی پیش نظر نہ ہو کیونکہ معاش کو رب العالمین نے خالص نظام ربوبیت کے تحت اپنی ذات سے وابستہ کر رکھا ہے اور کسی کی مداخلت کو اس میں جائز نہیں رکھا، عرب کے جاہل جو فقر و افلاس کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل کردیتے تھے، ان کے اس خیال کی تردید کرتے ہوئے قرآن پاک نے ارشاد فرمایا: ﴿وَلَا تَقْتُلُوْآ اَوْلَادَکُمْ خَشْیَةَ اِمْلَاقٍ﴾ (الإسراء:۳۱) اس کا حاصل یہی ہے کہ تمہارا یہ فعل نظام ربوبیت میں مداخلت کے مترادف ہے، تمام مخلوق کے رزق کی ذمہ داری خود احکم الحاکمین نے لی ہے، ﴿وَمَا مِنْ دَآبَّةٍ فِیْ الْاَرْضِ اِلَّا عَلَی اللّٰہِ رِزْقُہَا﴾ (ہود:۶)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند