• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 43756

    عنوان: جس كی آمدنی حرام ہو اس كے گھر كھانا كھانا

    سوال: ماموں سرگودھامیں رہتے ہیں ،ہماراجاناسرگودھامیں انہیں کے پاس ہوتاہے کوئی اور رشتہ دار نہیں رہتے سوائے ماموں کے،ان کی آمدنی مکمل حرام ہے ،اب وہاں ان کے ہاں جاکر کھانا،پیناپڑتاہے توایسی صورت میں کیاکرناچاہیئے؟رشتہ ہونے کے ناطے کچھ نہیں کرسکتے جبکہ وہ حرام آمدنی سے ہمارااکرام کرتے ہیں؟اس صورت میں کیاکرناچاہیئے؟

    جواب نمبر: 43756

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 301-301/M=3/1434 اگر آپ کو معلوم ہے کہ ماموں کی پوری آمدنی یا آمدنی کا اکثر حصہ حرام پر مشتمل ہے اور اسی آمدنی سے آپ کی ضیافت کرتے ہیں تو ایسی صورت میں ان کے یہاں کھانے پینے سے احتیاط لازم ہے اور حسب موقع واستطاعت بتلادینا چاہیے کہ آپ کی آمدنی حرام ہے اس لیے ہم کچھ کھانے پینے سے معذور ہیں، اللہ کو ناراض کرکے کسی بندے کو خوش کرنا جائز نہیں، رشتہ توڑنے کا قصد نہ ہو بلکہ خود کو حرام سے بچانا اور دوسرے کی اصلاح وتنبیہ مقصود ہو۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند