• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 43456

    عنوان: بغیر کچھ بتلائے تحفہ اور گفٹ کے طور پر بھی مالک کو دے سکتے ہیں آپ بری الذمہ ہوجائیں گے

    سوال: میں جب کالج جاتا تھا تب میرے گھر والے کسی معاملہ میں میری مدد نہیں کی ، میں مزدوری کرکے اس پیسے سے کالج کی پڑھائی پوری کی تھی ، میں نے اس وقت ایک غلطی بھی کی اسکا مجھے بہت افسوس ہے اس معاملہ میں آپ سے سوال کرنا تھا ، میں ایک شو کمپنی میں کام کرتا تھا ، وہاں سے میں کبھی کبھار چوری بھی کرتا تھا، مجھے پیسے بہت کم پڑتے تھے اسلئے ، وہ لوگ مجھ پر بہت بھروسہ کرتے تھے ، میں ایسا کرنا نہیں چاہا تھا تھا، مگر میں بہت مجبور تھا، ان لوگوں کو آج تک اس بات کا پتہ بھی نہیں ہے ، میں نے کئی بار سوچا تھا کہ ان کو یہ بات بولدوں اور وہ پیسہ واپس لوٹا دوں ، مگر ہمّت نہ کر سکا ، میں وہاں سے کچھ چیزیں چھپا کر لاتا اور میرے گھر میں میں خود شو بنا کر بیچتا تھا تقریباً ، ۵۰۰۰ سے ۷۰۰۰ تک کی چوری کی تھی سال ۱۹۹۸ میں ، اب مجھے کیا کرنا چاہئے ؟

    جواب نمبر: 43456

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 177-129/L=2/1434 آپ کسی بھی طرح اتنی رقم کمپنی کو واپس لوٹادیں، اگر کوئی شخص کسی کی کوئی چیز چرالے اور وہ زندہ ہو تو حکم یہی ہے کہ اس کو وہ چيز اور اگر ختم یا ضائع ہوچکی ہے تو اس کی قیمت لوٹادی جائے۔ =================== چیز کی رقم بغیر کچھ بتلائے تحفہ اور گفٹ کے طور پر بھی مالک کو دے سکتے ہیں آپ بری الذمہ ہوجائیں گے۔ (د)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند