• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 43055

    عنوان: نوکری جائز ہے کہ نہ جائز

    سوال: حضرت میں ایک نوکری کرتا ہوں جس کی selection ہوتی ہے . اور باقاعدہ میڈیکل بھی ہوتا ہے . میں نے ٹیسٹ پاسس کر لیا تھا لکن میڈیکل میں میں رہ گیا تھا . والد صاحب کے ایک دوست نے کسی کو بولا اس نے ١٠٠٠٠ روپے یہ کہ کر مانگے کے مجھے ڈاکٹر کو دینے ہیں . والد صاحب نے اسے ١٠٠٠٠ روپے دے دیے . اور اس ترہان میں میڈیکل فٹ ہو گیا . حضرت مہر با نی فرما کر میری رہنمائی کر دیں کے میں ٨ سال سے یہ نوکری کر رہا ہوں کیا یہ جائز ہے کہ ناجائز - اور ان ٨ سالوں میں مجھے جو تنخواہ ملی ہے اس کے بارے میں بھی رہنمائی کے دیں .

    جواب نمبر: 43055

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 51/41-2/1434 اگر آپ ملازمت میں متعلقہ ذمہ داریوں کو کما حقہ انجام دیتے ہیں تو ملازمت پر ملنے والی تنخواہ حرام نہ ہوگی البتہ ملازمت کے حصول میں ڈاکٹر کو جو رشوت دی گئی یہ شرعاً سخت ناجائز وحرام کام ہوا، اس سے سچی توبہ واستغفار لازم ہے، صدق دل سے توبہ واستغفار کی صورت میں اللہ تعالیٰ سے عفو ودرگذر کی امید ہے: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ (مشکاة شریف: ۲۰۶) والحدیث حسنہ ابن حجر العسقلاني لشواہدہ کما في المقاصد الحسنة للسخاوي۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند