• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 41376

    عنوان: اگر اصلاح کی توقع ہو تو مقاطعہ کی گنجائش ہے

    سوال: میں نعمانہ خالد بنت خالد صدیق ، پنجاب یونیورسٹی شعبہ علو مِ اسلامیہ لاہور پاکستان میں ایم ۔اے علوم اسلامیہ کے لئے مقالہ بعنوان "مسلم معاشرے میں غیر مسلموں کی مصنوعات سے استفادہ۔دینی و معاشی اعتبار سے جائزہ" لکھ رہی ہوں۔ اس سلسلے میں آ پ کی مدد درکار ہے۔ برائے مہربانی سوال کا جواب مرحمت فرما کر سائل کی اعانت فرمائیں تا کہ حق کو پا لینا آسان ہو۔ سوال:آج کل مسلم معاشروں میں غیر مسلموں کی مصنوعات کا استعمال کثرت سے کیا جاتا ہے جبکہ یہ امر واضح ہے کہ غیر مسلم(مثلاً یہود و قادیانی) ان مصنوعات کی فروخت سیحاصل کیا جانے والا منافع مسلمانوں کے خلاف سازشوں اور مظلوم مسلمانوں پر ظلم و ستم کرنے پر خرچ کرتیہیں۔ اس ضمن میں غیر مسلموں کے معاشی مقاطعہ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ نیز یہ بھی واضح فرما دیں کہ مسلمان اپنے ہاں غیر موجود مصنوعات اور معاشیات و سہولیات کی درآمد غیر مسلم ممالک سے کر سکتے ہیں؟

    جواب نمبر: 41376

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1725-1379/B=11/1433 بہت سی مرتبہ معاشی مقاطعہ کیا گیا مگر یہ مقاطعہ چند دنوں کے بعد ختم ہوجاتا ہے۔ اگر اصلاح کی توقع ہو تو مقاطعہ کی گنجائش ہے، مسلمان ان کی مصنوعات کی تجارت بھی کرسکتے ہیں، مگر مروت کے خلاف ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند