• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 413

    عنوان:

    کیا بال کی جڑ ناپاک ہے؟ جسم کے جو بال (داڑھی ، سینے اور زیرناف وغیرہ کے) اتر جائیں، ان کا کیا کیا جائے؟

    سوال:

    کیا بال کی جڑ ناپاک ہے؟

     

    جسم کے جو بال (داڑھی ، سینے اور زیرناف وغیرہ کے) اتر جائیں، ان کا کیا کیا جائے؟

    جواب نمبر: 413

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (فتوى: 185/ل=185/ل)

     

    بال کی جڑ پاک ہے، البتہ اکر اس میں چکنائی لگی ہو تو وہ ناپاک ہے، وشعر الإنسان غیر المنتوف وفي الشامیة: أما المنتوف فنجس والمراد روٴسہ التي فیہا الدسومة (شامي: 1/360-361 ط زکریا دیوبند)

     

    کٹے ہوئے بالوں کو دفن کردینا چاہیے، اگر دفن نہ کیا گیا تو کسی محفوظ جگہ ڈال دیا جائے مگر نجس (گندی) جگہ نہ ڈالنا چاہیے، اس سے بیمار ہوجانے کا اندیشہ ہے: فإذا قلم أظفارہ أوجز شعرہ ینبغي أن یدفن ذلک الظفر والشعر المجزور فإن رمی بہ فلا بأس بہ وإن ألقاہ في الکنیف أوفی المغتسل یکرہ ذلک لأن ذلک یورث داءً (عالمگیري: 5/358)

     

    نوٹ: سوال میں درج ذیل لفظ ?داڑھی کے بال اترجائیں?۔ اس سے آپ کی مراد داڑھی مونڈنا یا منڈانا ہے تو یہ حرام ہے۔

     


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند