• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 40374

    عنوان: ایک ٹرسٹ کے ذریعہ اہتمام مدرسہ اور مسجد کے نام سے ایک کرینٹ اکاؤنٹ بنوایا گیا ہے، لیکن بعض احباب کہتے ہیں کہ اس کو سیونگ اکاؤنٹ بنا دیا جائے اور جو اس کے ذریعہ سود آتاہے اس کو کسی غریب دیدیا جائے بغیر ثواب کی نیت کے ، سوال یہ ہے کہ اس طرح کرنا جائز ہے یا نہیں؟

    سوال: ایک ٹرسٹ کے ذریعہ اہتمام مدرسہ اور مسجد کے نام سے ایک کرینٹ اکاؤنٹ بنوایا گیا ہے، لیکن بعض احباب کہتے ہیں کہ اس کو سیونگ اکاؤنٹ بنا دیا جائے اور جو اس کے ذریعہ سود آتاہے اس کو کسی غریب دیدیا جائے بغیر ثواب کی نیت کے ، سوال یہ ہے کہ اس طرح کرنا جائز ہے یا نہیں؟

    جواب نمبر: 40374

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 739-719/N=9/1433 مسجد اور مدرسہ کی رقومات کی حفاظت کی غرض سے مسجد اور مدرسہ کے لیے بینک میں سیونگ اکاوٴنٹ کھلوانا جائز ودرست ہے، بشرطیکہ سود کے نام سے ملنے والی رقم بلانیت ثواب غربا و مساکین پر صدقہ کردی جائے۔ اور اگر کوئی صاحب کرنٹ اکاوٴنٹ کا سالانہ سروس چارج اپنے ذمہ لے لیں تو افضل وبہتر یہی ہے کہ مسجد اور مدرسہ کے لیے بھی کرنٹ اکاوٴنٹ ہی کھلوایا جائے کیونکہ اس میں کوئی سودی لین دین نہیں ہوتا اور جب چاہیں اور جتنی چاہیں رقم نکال سکتے ہیں، نیز اس میں بینک کو پیشگی اطلاع کرنا بھی ضروری نہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند