• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 38649

    عنوان: مسلمان کافر کو دوست بنا سکتا ہے

    سوال: (۱) میرا یہ سوال یہ ہے کہ کیا مسلمان کافر سے دوستی کر سکتا ہے یا نہیں؟(۲) کیا اسکا جھوٹا کھا اور پی سکتا ہے؟ (۳) کیا اسکے کے ساتھ ایک ہی برتن میں کھا سکتا ہے،(۴) اس سے دل لگا سکتا ہے؟ براہ کرم، مجھے بتا دیجئے، کہ کیوں کہ مجھے بہت سے کافر دوست ہیں۔ اگر اسلام میں یہ منع ہے تو میں ان سے دوستی چھوڈ دوں گا۔

    جواب نمبر: 38649

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 255-270/N=6/1433 (۱) ظاہری خوش خلقی، ہمدردی، خیرخواہی، نفع رسانی اور باہمی لین دین کی حد تک کافروں اور غیرمسلموں سے تعلقات رکھنا جائز اور درست ہے، لیکن دلی دوستی اور قلبی محبت وتعلق ایمان والے کے علاوہ کسی سے بھی جائز نہیں، ناجائز وحرام ہے حرام ہے، قال تعالی: ”لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْکَافِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ“ (سورہٴ آل عمران، آیت: ۲۸)، وقال تعالیٰ: ”یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّْیْ وَعَدُوَّکُمْ اَوْلِیَآءَ تُلْقُوْنَ اِلَیْہِمْ بِالْمَوَدَّةِ“ (سورہٴ ممتحنہ، آیت: ۱)۔ (تفصیل کے لیے معارف القرآن، ۲/۴۹-۳۵ دیکھیں) (۲) تا (۴) مسلمان کی طرح کافر کا جھوٹا بھی بلا کسی کراہت حلال وپاک ہے بشرطیکہ اس کا منھ ناپاک نہ ہو قال في الدر (مع الرد کتاب الطہارة، باب المیاہ: ۱/ ۳۸۱-۳۸۲، ط: زکریا دیوبند): ویعتبر سوٴر بمسئر․․․ فسوٴر آدمي مطلقاً ولو جنبا أو کافرًا․․․ طاہر الفم․․․ طاہر طہور بلاکراہة إھ اس لیے مسلمان کے لیے کافر کا جھوٹا کھانا پینا اور نیز اسکے ساتھ اس کے برتن میں کھانا جائز ودرست ہے، لیکن کسی کافر کے ساتھ دل لگانا اور اس سے دلی محبت کرنا جائز نہیں۔ اور کسی کے ساتھ بہت زیادہ گھل مل کر رہنے اور مستقل یا بکثرت اس کے ساتھ کھانے پینے سے بھی آپس میں محبت پیدا ہوتی ہے اس لیے اگر آپ کے کافر وغیرمسلم ساتھیوں کے اسلام قبول کرنے کی امید وتوقع نہ ہو تو ان کے ساتھ مستقل یا بکثرت کھانے پینے اور بہت زیادہ گھل مل کر رہنے سے آپ کو پرہیز کرنا چاہیے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند