• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 38645

    عنوان: سگریٹ اور تمباکو نوشی

    سوال: (۱) سگریٹ اور تمباکو نوشی کرنے کا کیا حکم ہے؟ (۲) اگر کوئی کرے تو وہ گنگار ہوگا؟(۳) شافعی اور احناف کے نزدیک اس مسئلہ پر ایک اتفاق ہے ؟ برائے مہربانی دلائل کی روشنی میں مسئلہ کا حل بتائیں۔ اللہ آپ کو جزائے خیر سے نوازے آمین ، شکراً.

    جواب نمبر: 38645

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 778-756/N=9/1433 (۱) تمباکو اور سگریٹ نوشی کے سلسلہ میں احناف کے نزدیک یہ تفصیل ہے کہ جو تمباکو اور سگریٹ یقین یا ظن غالب کے درجہ میں صحت کے لیے مضر ہو اس کا استعال ناجائز اور مکروہ تحریمی ہے، اور جس میں صرف اندیشہ ہو یا وہ آہستہ آہستہ نقصان بہنچاتی ہو تو اس کا استعمال اور دوسری صورت میں کبھی کبھی اس کا استعمال مکروہ تنزیہی ہے، اجتناب اولیٰ ہے۔ (۲) ناجائز اور مکروہ تحریمی کی صورت میں گنہ گار ہوگا، اور مکروہ تنزیہی کی صورت میں برا کرنے والا ہوگا۔ (۳) حضرات شوافع کے نزدیک آج کل تمباکو اور سگریٹ نوشی کے سلسلہ میں صحیح اور مفتی بہ قول کیا ہے؟ مجھے معلوم نہیں، علمائے شوافع سے دریافت کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند