• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 38642

    عنوان: حلال یا حرام

    سوال: میں جس کمپنی میں کام کرتاہوں، اس کمپنی میں اسکرپ نکلتاہے اور اس کو میں کمپنی کے مدیر کو بتاکر ایک شخص کو بیچتاہوں وہ کمپنی حساب دے کر مجھ کو کچھ روپئے ہدیہ دیتی ہے تو کیایہ میرے لئے جائز ہے؟ سکرپ یعنی پتھرا یا لوہا جو کاٹ چھانٹ کے بعد بچ جاتا ہے اسے سکرپ کہتے ہے اور کمپنی کا مالک مدیر نہیں ہے لیکن جو بھی ہوتا ہے مدیر کے دستخط سے ہوتا ہے اور وہ ہی مالک بھی مان لیتا ہے اور میں مدیر سے پوچھ کر سکرپ بیچتا ہوں اور جسکو میں بچتا ہوں وہ مجھے کچھ رقم ہدیہ دیتا ہے، اس بنا پر کہ میں نے اس کو سکرپ دلانے میں مدد کی؟ تو کیا وہ ہدیہ میرے لئے لینا صحیح ہے ؟ اور اگر غلط ہے تو کیوں ہے جب کے میں کمپنی سے دھوکہ نہیں کر رہا ہوں ؟ میرا سوال یہ ہے کہ اگر ایک آدمی مجھے اپنے فائدے میں سے کچھ رقم ہدیہ دے رہا ہے تو وہ رشوت کیسے ہو سکتی ہے ؟ جب کہ میں کمپنی کا پیسہ نہیں کھا رہا ہوں اور وہ آدمی صرف مجھے ہی ہدیہ نہیں دیتا ہے بلکہ وہ کمپنی میں کام کرنے والے لوگوں کو بھی ہدئیے کے طور پر چاکلیٹ کھانے کے لیے لاتا ہے اور یہ سب وہ اپنے فائدے میں سے لے کر آتا ہے ۔ تو کیا یہ سب رشوت ہو گی ؟جب کہ وہ کمپنی کا پورا پیسہ دے رہی ہے۔

    جواب نمبر: 38642

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 871-535/H=6/1433 اگر اس ہدیہ کا مقصد یہی ہو کہ سکرپ بیچنے اور اسکی قیمت لگانے نیز مدیر سے دستخط کرانے میں تسامح سے کام لیا جائے تو اس ہدیہ کا رشوت ہونا ظاہر ہے، اگر چاکلیٹ دینے میں بھی اسی طرح کا کوئی مقصد ہو تو وہ بھی رشوت ہے، ان جیسی چیزوں کے لینے سے معذرت کردینی چاہیے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند