• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 36835

    عنوان: حمل كس صورت میں ضائع كراسكتے هیں؟

    سوال: جب ایک بچہ چھوٹا ہو مَثَلاً۲ یا ۳ مہینے کا ہواور دوسرا حمل ہو جائے تو وو حمل ضائع کر سکتے ہیں کہ نہیں ؟ ۲.جب خاوند اور بیوی کی ایک مرضی ہو تو ۲ یا ۳ بچوں کے بعد والات کو بند کر سکتے ہیں کہ نہیں ؟ ۳. خاوند اور بیوی ہم بستر ہونے کے وقت ایک دوسرے کی شرم گاہ چوم سکتے ہے کہ نہیں ؟

    جواب نمبر: 36835

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ل): 353=141-3/1433 (۱) بغیر کسی مجبوری کے حمل ضائع کرانا درست نہیں، البتہ واقعی مجبوری ہو مثلاً عورت اتنی کمزور ہے کہ بار حمل کا تحمل نہیں کرسکتی یا پہلے سے موجود بچے کی صحت خراب ہونے کا شدید خطرہ ہے اور ماہر دین دار مسلمان طبیب یا ڈاکٹر کا یہی مشورہ ہے تو ایسی صورت سے چار مہینے سے پہلے پہلے حمل ساقط کرانے کی گنجائش ہے۔ (۲) دو یا تین بچوں کی ولادت کے بعد ایسا طریقہ اختیار کرنا جس سے ہمیشہ کے لیے قوت تولید ختم ہوجائے جائز نہیں۔ (۳) بوقت صحبت زوجین کا ایک دوسرے کے شرم گاہ کو چومنا مکروہ ہے، یہ جانوروں کا طریقہ ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند