• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 36747

    عنوان: کرکٹ کو بطور پیشہ اختیار کرنا اور اس پر اجرت لینا

    سوال: کیا کرکٹ کو بطورپیشہ اختیار کیا جاسکتا ہے ،اور پھر مختلف اداروں کی طرف سے کھیل کر ان سے باقعدہ اجرت لی جاسکتی ہے کہ نہیں؟

    جواب نمبر: 36747

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(د): 354=359-3/1433 آج کل ”کرکٹ“ وبا کی طرح ایک مرض بن گیا ہے اور اس کی حیثیت تفریح اور کھیل سے تجاوز کرکے ایک مستقل کام کی ہوگئی ہے ۔جو آدمی بھی اس میں ملوث ہوتا ہے وہ دین کے مختلف احکام کو توڑنے پر مجبور ہوجاتا ہے، حتی کہ اس کھیل کو دیکھنے والے بھی اس کی وجہ سے احکاماتِ الٰہیہ کو چھوڑدیتے ہیں اور اپنے قیمتی اوقات کو ایسی چیز میں ضائع کردیتے ہیں جس میں نہ ان کا دنیا کا کوئی فائدہ ہوتا ہے اور نہ دین کا،بلکہ دونوں کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ اس وقت جو اس کے نتائج سامنے آئے ہیں اس سے اس بات کا یقین ہوگیا کہ اس کھیل کی وجہ سے بہت سی اخلاقی خرابیوں کو بھی فروغ ملا ہے اور مل رہا ہے، نمازیں قضا کردی جاتی ہیں، جوا اور سٹہ کھیلا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ الحاصل ”کرکٹ“ بہت سی دینی ودنیوی خرابیوں کا مجموعہ ہے، جب تک اس کی حیثیت محض تفریح اور ورزش کی تھی تو اکابر نے شرائط وقیودات کے ساتھ اس کی اجازت دی تھی، مگر موجودہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے اس کھیل سے مکمل طور پر احتراز کرنا چاہیے، اور جب اس کھیل کی حقیقت واضح ہوگئی تو بطور پیشے کے بھی اس کو اختیار کرنے کے بجائے کوئی دوسرا پیشہ اختیار کرنا چاہیے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند