• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 36217

    عنوان: حرام آمدنی والے شخص سے معاملات كرنا

    سوال: ایک آدمی بینک میں کام کرتا ہے اس کی تنخواہ حرام ہے۔ میں نے اس کو اپنا بیگ بیچا ہے اور اس نے جو رقم دی ہے یقیناً وہ اپنی تنخواہ میں سے دی ہوگی جب کہ وہ حرام ہے، تو کیا وہ رقم میرے لئے حلال ہوگی ؟

    جواب نمبر: 36217

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ل): 280=189-2/1433 جن لوگوں کی آمدنی بالکل حرام خالص ہے، ان کو کوئی چیز فروخت کرنا اور اس مالِ حرام میں سے قیمت لینا جائز نہیں، قال اللہ تعالیٰ: وَلاَ تَتَبَدَّلُوا الْخَبِیْثَ بِالطَّیِّبِ، وعن ابن عباس مرفوعاً: إن اللہ تعالیٰ إذا حرم علی قوم أکل شيء حرم علیہ ثمنہ (أبوداوٴد) البتہ جن لوگوں کی کمائی مشتبہ ہو یا حلال وحرام سے ملی ہوئی ہو اور حلال غالب ہو ان کے ہاتھ کوئی چیز فروخت کرنا جائز ہے بشرطیکہ وہ قیمت حلال مال سے دے؛ اس لیے کہ مشتبہ چیز سے بچنا دشوار ہے لہٰذا ضرورةً اس کی اجازت ہے، لأن الضرورات تبیح المحظورات، ولا یکلف اللہ نفسا إلا وُسعَہا اگرچہ احتیاط اسی میں ہے کہ ان کے ہاتھ بھی کوئی چیز فروخت نہ کرے، بینک میں ملازمت کرنے والے کی کل کمائی حرام نہیں ہوتی بلکہ ملازم کو اپنے جائز کاموں کے ساتھ کچھ ایسے کام بھی کرنے پڑتے ہیں جس کی شرعاً اجازت نہیں، اب اگر اس کے جائز کام زیادہ ہوں یا اس کا علم نہ ہو تو ان کے ہاتھ اپنی کوئی چیز فروخت کرنا جائز ہے اگرچہ احتیاط کے خلاف ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند