• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 32603

    عنوان: تمام لیب والے اس طرح سے ہم لوگوں کو کچھ کمیشن ہمیشہ دیتے ہیں ، کیا اس کمیشن کو ہم استعمال کرسکتے ہیں یا نہیں؟

    سوال: کیا فرماتے ہیں مفتی محمود الحسن صاحب مسئلہ ذیل کے بارے میں قرآن اور حدیث کی روشنی میں کہ میں ڈاکٹر ہوں اور مجھے ضرورت کے تحت مریضوں کی جانچ کرنی پڑتی ہے تو لیب کی ایک پرائس (قیمت) لسٹ میرے پاس بھی ہوتی ہے اور اگر مریض خود لیب جائے تو بھی اسی لسٹ کے تحت ادائیگی لی جاتی ہے ، اس میں جو شکل ہے مندرجہ ذیل ہے:(۱ ) کبھی تو مریض کا خون و پیشاب میں کلنک پر ہی لے کر لیب بھیج دیتاہوں، (۲) کبھی مریض خود لیب چلاجاتاہے اور میں صرف اپنے پرچہ پر ٹیسٹ لکھ دیتاہوں، (۳) کبھی مریض خود لیب چلاجاتاہیلیکن پرچہ کسی دوسرے ڈاکٹر کا ہوتاہے اور میں صرف فون پر یہ کہتاہوں کہ یہ جانچ کردینااور رپورٹ میری کلنک پر بھیج دینا، لیکن کبھی تو میں رعایت کے لیے لکھ دیتاہوں تو وہ کچھ فیصد رعایت دیتے ہیں، (۴) کبھی رعایت کے لیے نہیں بھی کہتاہوں، لیکن وہ رپورٹ میری کلنک پر بھیج دیتے ہیں، میں صرف جانچ کے بارے میں بتادیتاہوں، (۵) سوال یہ ہے کہ تمام لیب والے اس طرح سے ہم لوگوں کو کچھ کمیشن ہمیشہ دیتے ہیں ، کیا اس کمیشن کو ہم استعمال کرسکتے ہیں یا نہیں؟

    جواب نمبر: 32603

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ھ): 1210=757-7/1432 (۱) تا (۵) آپ مریض سے اپنی فیس وغیرہ وصول کرلیتے ہیں اور پھر لیب پر بھیجتے ہیں اور محض زبانی وقلمی رہنمائی کردینے پر جو آپ کو لیب والے کمیشن دیتے ہیں، شرعاً اس کا لینا دینا درست نہیں، البتہ اگر ضرورت واقعیہ کی وجہ سے بھیجیں اور ان لیب والوں سے مطالبہ کسی رقم کا نہ کریں اور باوجود مطالبہ نہ کرنے کے وہ بھیج دیں تو اس کے استعمال کی گنجائش ہے، اگر آپ مریض کو بھیجیں اور وہ آپ کو رقم دینے کی وجہ سے مریض سے زیادہ رقم وصول کریں تو ایسا کرنا بھی جائز نہیں اور ایسی صورت میں رقم لینا آپ کو بہرحال ممنوع ہوگا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند