• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 31245

    عنوان: ہم نے تین ڈاکٹروں سے مشورہ لیا ، سبھی اسقاط کرانے کا مشورہ دیاتھا اور پھر ہم نے یہی کیا۔ حمل کا چھٹا مہینہ تھا۔ میں یہ جاننا چاہوں گا کہ کیا ایسے حالات میں اسلام اس کی اجازت دیتاہے؟

    سوال: میری بیوی سے حمل سے تھی، ٹیسٹ میں ڈاکٹر نے یہ تشخیص کی کہ بچی کو دل کی سنگین بیماری ہے ( جس میں پیدائش کے 24/ گھنٹوں کے اندر ہی سرجری کی ضرورت ہوگی)نیز اس کا ایک ہاتھ چھوٹا ہوگا۔ ہم نے تین ڈاکٹروں سے مشورہ لیا ، سبھی اسقاط کرانے کا مشورہ دیاتھا اور پھر ہم نے یہی کیا۔ حمل کا چھٹا مہینہ تھا۔ میں یہ جاننا چاہوں گا کہ کیا ایسے حالات میں اسلام اس کی اجازت دیتاہے؟اگر ہم نے ایسا کرکے گناہ کا ارتکاب کیا ہے تو اب ہمیں کرنا چاہئے ؟ براہ کرم، ہماری رہنما ئی فرمائیں۔

    جواب نمبر: 31245

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ل): 525=406-4/1432 سخت مجبوری کی صورت میں اگر حمل چار مہینے سے کم کا ہو تو اس کو ساقط کرانے کی اجازت ہے، چار مہینے کے بعد جنین میں روح ڈال دی جاتی ہے، اس کے بعد حمل ساقط کرانے سے قتل نفس کا گناہ ہوتا ہے۔ اس لیے اگر حمل چار مہینے سے زائد کا تھا تو اس کو ساقط کراکر آپ نے سخت غلطی کی اور گناہ کبیرہ کا ارتکاب کیا۔ اب اس کی تلافی کی یہی صورت ہے کہ اس پر صدق دل سے توبہ واستغفار کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند