• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 30271

    عنوان: ہمارے کچھ رشتہ دار گاؤں میں رہتے ہیں، وہاں بجلی چوری کرنا عام ہے اور وہ لوگ بھی کرتے ہیں، وہ لوگ کھانا بھی بجلی سے چلنے ہیٹر سے بناتے ہیں، کیا ان کا کھانا حرام ہے؟ہمارا ان کے گھر سے آئی ہوئی کھانے والی چیزوں کو استعمال کرنا کیسا ہے؟وہ ہمارے قریبی رشتہ دار ہیں ، اس لیے مجھے اور میرے والدین کو اکثر وہاں جانا پڑتاہے۔ براہ کرم، اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔ 

    سوال: ہمارے کچھ رشتہ دار گاؤں میں رہتے ہیں، وہاں بجلی چوری کرنا عام ہے اور وہ لوگ بھی کرتے ہیں، وہ لوگ کھانا بھی بجلی سے چلنے ہیٹر سے بناتے ہیں، کیا ان کا کھانا حرام ہے؟ہمارا ان کے گھر سے آئی ہوئی کھانے والی چیزوں کو استعمال کرنا کیسا ہے؟وہ ہمارے قریبی رشتہ دار ہیں ، اس لیے مجھے اور میرے والدین کو اکثر وہاں جانا پڑتاہے۔ براہ کرم، اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔ 

    جواب نمبر: 30271

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(م):344=344-3/1432

    بجلی کی چوری شریعت اور قانون کی نظر میں گناہ اور جرم ہے، اس سے احتراز لازم ہے، آپ اپنے رشتے داروں کو حکمت ومصلحت کے ساتھ سمجھاتے رہیں اور قانون وشریعت کے وبال سے ڈراتے رہیں اور جائز طریقے پر استعمال کی ترغیب دیتے رہیں، بجلی چوری سے پکا ہوا کھانا، کھانا اگرچہ حرام نہیں ہے لیکن اگر معلوم ہو تو احتیاط کرنی چاہیے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند