• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 2896

    عنوان:

    اگر میاں بیوی اورل سیکس کرنا چاہیں تو کیا یہ جا ئز ہے؟ کبھی میری بیوی اپنے عضو خاص کو چومنے اور چاٹنے کے لیے کہتی ہے، میں اسے قباحت نہیں سمجھتاہوں اگر اسلام میں اس کی اجازت ہے؟ یہ بھی بتائیں کہ کیا وہ بھی میرے ساتھ ایسا کر سکتی ہے؟ (۲) ماہواری کے ایام میں کبھی میری بیوی کی جنسی خواہش بڑھ جاتی ہے اور اسے پور کرنا چاہتی ہے تو میں کیسے اس کی مدد کروں؟ کیا میں اپنے ہاتھ سے اس کی مشت زنی کروں یا نہیں؟اور کیا بیوی اپنے ہاتھ سے اپنے شوہر کی مشت زنی کرسکتی ہے اگر شوہر چاہے؟ براہ کرم، اس بارے میں اسلام قانون بتائیں۔

    سوال:

    اگر میاں بیوی اورل سیکس کرنا چاہیں تو کیا یہ جا ئز ہے؟ کبھی میری بیوی اپنے عضو خاص کو چومنے اور چاٹنے کے لیے کہتی ہے، میں اسے قباحت نہیں سمجھتاہوں اگر اسلام میں اس کی اجازت ہے؟ یہ بھی بتائیں کہ کیا وہ بھی میرے ساتھ ایسا کر سکتی ہے؟ (۲) ماہواری کے ایام میں کبھی میری بیوی کی جنسی خواہش بڑھ جاتی ہے اور اسے پور کرنا چاہتی ہے تو میں کیسے اس کی مدد کروں؟ کیا میں اپنے ہاتھ سے اس کی مشت زنی کروں یا نہیں؟اور کیا بیوی اپنے ہاتھ سے اپنے شوہر کی مشت زنی کرسکتی ہے اگر شوہر چاہے؟ براہ کرم، اس بارے میں اسلام قانون بتائیں۔

    جواب نمبر: 2896

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 125/ ل= 126/ ل

     

    (۱) میاں بیوی کا اورل سیکس کرنا ناجائز ہے: وفي النوازل: إذا دخل الرجل ذکرہ في فم امرأتہ قد قیل یکرہ، وقد قیل بخلافہ کذا في الذخیرة، عالم گیری: ج۵ ص۳۷۲) اور احسن الفتاویٰ میں ہے: أقول: المبیح مجہول منکر وقولہ مردود شرعاً وعقلاً (احسن الفتاویٰ: ۸:۴۵)

    (۲) بیوی کی مشت زنی کی صورت سمجھ میں نہیں آئی البتہ حالت حیض میں ماتحت الازار بیوی سے استمتاع ناجائز ہے۔

    (۳) بضرورت تسکین، بیوی کے ہاتھ سے شوہر کا مشت زنی کرانا جائز ہے بلاضرورت مکروہ تنزیہی ہے۔ ویجوز أن یستمنی بید زوجتہ وخادمتہ وسیذکر الشارح في الجوہرة أنہ یکرہ ولعل ولعل المراد بہ کراھة التنزیہ فلا ینافي قول المعراج یجوز (شامی: ج۳ ص۳۷۱، کتاب الصوم، ط زکریا دیوبند)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند