• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 27851

    عنوان: میں نے بینک سے نو فیصد ماہانہ سود کی بنیاد پر لون لے کر ایک فلیٹ خریدا ہے۔ میرا ارادہ یہ تھا کہ جب چار پانچ سال کے بعد قیمت بڑھے گی تو میں یہ فلیٹ بیچ دوں گا۔میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ (۱)کیا اس طرح سود پر خریدنا جائز ہے؟ (۲) اگر جائز نہیں ہے، تو میں نے ایک لاکھ روپئے بکنگ کی رقم جمع کی ہے اور ایک لاکھ قسطوں/سود پر ایک سال کے لیے ۔اگر میں اس کو فوراً فروخت کردیتا ہوں تو مجھ کو نقصان ہوگا۔ کیا میں قسطوں کی ادائیگی جاری رکھ سکتا ہوں یہاں تک کہ میں منافع بک کرلوں یا اس کو فوراً فروخت کردوں؟

    سوال: میں نے بینک سے نو فیصد ماہانہ سود کی بنیاد پر لون لے کر ایک فلیٹ خریدا ہے۔ میرا ارادہ یہ تھا کہ جب چار پانچ سال کے بعد قیمت بڑھے گی تو میں یہ فلیٹ بیچ دوں گا۔میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ (۱)کیا اس طرح سود پر خریدنا جائز ہے؟ (۲) اگر جائز نہیں ہے، تو میں نے ایک لاکھ روپئے بکنگ کی رقم جمع کی ہے اور ایک لاکھ قسطوں/سود پر ایک سال کے لیے ۔اگر میں اس کو فوراً فروخت کردیتا ہوں تو مجھ کو نقصان ہوگا۔ کیا میں قسطوں کی ادائیگی جاری رکھ سکتا ہوں یہاں تک کہ میں منافع بک کرلوں یا اس کو فوراً فروخت کردوں؟

    جواب نمبر: 27851

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(د): 1919=404-12/1431

     

    (۱) ناجائز ہے۔

    (۲) سود پر قرض لینا ناجائز ہے جب تک قسطوں کی ادائیگی ہوتی رہے گی گناہ کے معاملہ میں ابتلاء رہے گا، اس لیے بہتر ہے کہ جلد سے جلد قسطیں ادا کرکے فارغ ذمہ ہوجائیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند