• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 26756

    عنوان: (۱) شوہر کے لیے بیوی کی خالہ ، مامی، پھوپھی اور چچی سے پردہ ہے یا نہیں؟ (۲) بیوی کی ماں سے پردہ ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو کس حدتک پردہ نہیں ہے؟ (۳) بیوی کے لیے شوہر کے خالو ، ماموں ، چچا سے پردہ ہے یا نہیں؟ (۴) شوہر کے والد سے پردہ ہے یا نہیں؟اگر نہیں تو کتنے درجہ تک پردہ نہیں ہے۔ (۵)عورت کے لیے دیور سے پردہ ہے ، (۶)لیکن ایک گھر میں رہتے ہیں ، شریعت کے پابند ہوتے ہوئے دور کھڑے ہو کر کس حدتک ضرورت پر بات ہوسکتی ہے؟

    سوال: (۱) شوہر کے لیے بیوی کی خالہ ، مامی، پھوپھی اور چچی سے پردہ ہے یا نہیں؟ (۲) بیوی کی ماں سے پردہ ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو کس حدتک پردہ نہیں ہے؟ (۳) بیوی کے لیے شوہر کے خالو ، ماموں ، چچا سے پردہ ہے یا نہیں؟ (۴) شوہر کے والد سے پردہ ہے یا نہیں؟اگر نہیں تو کتنے درجہ تک پردہ نہیں ہے۔ (۵)عورت کے لیے دیور سے پردہ ہے ، (۶)لیکن ایک گھر میں رہتے ہیں ، شریعت کے پابند ہوتے ہوئے دور کھڑے ہو کر کس حدتک ضرورت پر بات ہوسکتی ہے؟

    جواب نمبر: 26756

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(د): 1701=1281-1431

    (۱) پردہ ہے۔ 
    (۲) بیوی کی حقیقی والدہ سے پردہ نہیں ہے، البتہ مواقع فتنہ میں تنہائی میں یکجا ہونے سے احتیاط برتی جائے۔
    (۳) پردہ ہے۔ 
    (۴) پردہ نہیں ہے، البتہ فتنہ کے مواقع میں یکجائی اور تنہائی سے پرہیز کیا جائے۔
    (۵) پردہ ہے، حدیث میں تو دیور کو ”الموت“ کہا گیا ہے، اس لیے زیادہ احتیاط برتنے کی ضرورت۔
    (۶) مشترک فیملی میں بھی پردہ کا اہتمام ضروری ہے، البتہ پردہ کی آڑ سے یا مواقع زینت چھپے ہونے کی حالت میں ضروری بات کرسکتے ہیں، دوبدو گفتگو یا بے محابا آمنے سامنے ہونے سے احتیاط برتیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند