• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 26587

    عنوان: میں ماہانہ تنخواہ پر دبئی میں ایک کمپنی میں کام کررہا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ کمپنی کے مالک کچھ لوگوں کو سود دے کر (ٹیبل کے نیچے سے) بزنس کررہے ہیں، اوروہ ”بزنس کی حکمت “ کے بارے میں بتاتے ہیں۔ کبھی کبھار میرے مالک مجھے بھی مال سپلائی کرنے والوں کے لیے غیری حقیقی جانکاری کے کاغذات تیار کرنے کے لیے کہتے ہیں۔ میں جاننا چاہتاہوں کہ یہ تنخواہ حلال ہے یا نہیں؟چونکہ میں ان کی ہدایات پر صرف بحیثیت کلرک کام کرتاہوں، نیز میں ان کے یہاں اب بھی ملازم ہوں، لیکن وہ مختلف بزنس میں اپنا شریک ہونے کے لئے کہتے ہیں ۔ اس بزنس میں بھی میں کام کروں گااور مالک مختلف گاہکوں سے بزنس حاصل کرنے میں مدد کررہے ہوں گے۔ اس صورت حال میں آمدنی کے بارے میں کیا حکم ہوگا؟ حلال یا حرام؟

    سوال: میں ماہانہ تنخواہ پر دبئی میں ایک کمپنی میں کام کررہا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ کمپنی کے مالک کچھ لوگوں کو سود دے کر (ٹیبل کے نیچے سے) بزنس کررہے ہیں، اوروہ ”بزنس کی حکمت “ کے بارے میں بتاتے ہیں۔ کبھی کبھار میرے مالک مجھے بھی مال سپلائی کرنے والوں کے لیے غیری حقیقی جانکاری کے کاغذات تیار کرنے کے لیے کہتے ہیں۔ میں جاننا چاہتاہوں کہ یہ تنخواہ حلال ہے یا نہیں؟چونکہ میں ان کی ہدایات پر صرف بحیثیت کلرک کام کرتاہوں، نیز میں ان کے یہاں اب بھی ملازم ہوں، لیکن وہ مختلف بزنس میں اپنا شریک ہونے کے لئے کہتے ہیں ۔ اس بزنس میں بھی میں کام کروں گااور مالک مختلف گاہکوں سے بزنس حاصل کرنے میں مدد کررہے ہوں گے۔ اس صورت حال میں آمدنی کے بارے میں کیا حکم ہوگا؟ حلال یا حرام؟

    جواب نمبر: 26587

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ب): 1850=1476-11/1431

    سودی کار وبار کرنا، سودی حساب لکھنا، سودی کاروبار کے کاغذات تیار کرنا شریعتِ اسلام میں ناجائز وحرام ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں پر لعنت فرمائی ہے۔ سودی کاروبار میں کسی طرح کی مدد کرنا جائز نہیں۔ اور جو کام ناجائز ہو اس کی آمدنی بھی ناجائز ہے، اس لیے مسلمان کو اس طرح کے ناجائز کام سے بچنا ضروری ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند