• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 24029

    عنوان: حضرت مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ 1. زید ایک خاتون کے یہاں ملازمت کرتا تھا۔ ملازمت میں ذمہ داری یہ تھی کہ وہ مختلف مقامات سے قحبہ گری کے لئے لڑکیوں کو فراہم کرنا یا اس ذیل میں کسی نہ کسی قسم کی مدد کرنا شامل تھا۔ مالکن غیر مسلم تھی۔ اس قسم کی ملازمت کے دوران زید نے کبھی بھی اجرت نہیں لی۔ اب اس نے توبہ کرلی ہے۔ فی الحال زید ایک کرایہ کے مکان میں رہتاہے ۔ اسے گھر خریدنے کے لئے روپیوں کی ضرورت ہے۔ اس کی اطلاع جب اس کے سابقہ مالکن کو ہوئی جس کے یہاں مذکورہ کام کرتا تھا تو اس کی بیٹی کچھ روپیہ دینا چاہتی ہے۔ مزید برآں اس کی والدہ جو مالکن ہے وہ پورا اپنے روپئے سے دلانا چاہتی ہے۔ اور اس روپئے کو واپس لینا نہیں چاہتی۔ چونکہ ہم نے اس کے یہاں بغیر اجرت کے ملازمت کی تھی۔ اور وہ کہتی ہے کہ ایک اسکوٹر ہے وہ بھی تم لے جاؤ ۔ روپیے دینے کی ضرورت نہیں۔ تفصیل سے جواب مرحمت فرمائیں کیا یہ چیزیں لینا درست ہے؟ 2. زید فلمی دنیا میں لائٹ مین ہے ۔ فلم میں فوکسنگ کا کا م اس کے ذمہ ہے۔ یعنی فلماتے وقت تیز روشنی ہیرو یا ہیروئن یا دیگر لوگوں پر دینا تا کہ فلم کشی واضح اور روشن ہو۔ فی الوقت بھائی کے سمجھانے پر ترک کردیا ہے۔ سوال یہ ھے کہ کیا یہ اسلام میں حرام ہے؟ 3. زید ٹیکسی چلاتا ہے۔ اور مسافروں کو مختلف رہائشی ہوٹلوں تک پہونچاتا ہے۔ جن ہوٹلوں تک پہونچا تا ہے ان میں کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جہاں شراب یا کبھی مطالبہ پر لڑکیا ں بھی ملتی ہیں۔ ہر قسم کے ہوٹل کے مالکین ہمیں مسافروں کو پہونچانے کی وجہ سے روپیہ دیتے ہیں حالانکہ ہم ان سے مانگتے نہیں ہیں اور نہ طے کرتے ہیں ، تاکہ ٹیکسی ڈرائیور مسافروں کو وہاں تک پہونچایا کرے۔ کیا ہوٹلوں تک مسافروں کو پہونچانا یا ان کے مالکین کی طرف سے دیے ہوئے روپیے لینا جائز ہے؟ والسلام۔

    سوال: حضرت مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ 1. زید ایک خاتون کے یہاں ملازمت کرتا تھا۔ ملازمت میں ذمہ داری یہ تھی کہ وہ مختلف مقامات سے قحبہ گری کے لئے لڑکیوں کو فراہم کرنا یا اس ذیل میں کسی نہ کسی قسم کی مدد کرنا شامل تھا۔ مالکن غیر مسلم تھی۔ اس قسم کی ملازمت کے دوران زید نے کبھی بھی اجرت نہیں لی۔ اب اس نے توبہ کرلی ہے۔ فی الحال زید ایک کرایہ کے مکان میں رہتاہے ۔ اسے گھر خریدنے کے لئے روپیوں کی ضرورت ہے۔ اس کی اطلاع جب اس کے سابقہ مالکن کو ہوئی جس کے یہاں مذکورہ کام کرتا تھا تو اس کی بیٹی کچھ روپیہ دینا چاہتی ہے۔ مزید برآں اس کی والدہ جو مالکن ہے وہ پورا اپنے روپئے سے دلانا چاہتی ہے۔ اور اس روپئے کو واپس لینا نہیں چاہتی۔ چونکہ ہم نے اس کے یہاں بغیر اجرت کے ملازمت کی تھی۔ اور وہ کہتی ہے کہ ایک اسکوٹر ہے وہ بھی تم لے جاؤ ۔ روپیے دینے کی ضرورت نہیں۔ تفصیل سے جواب مرحمت فرمائیں کیا یہ چیزیں لینا درست ہے؟ 2. زید فلمی دنیا میں لائٹ مین ہے ۔ فلم میں فوکسنگ کا کا م اس کے ذمہ ہے۔ یعنی فلماتے وقت تیز روشنی ہیرو یا ہیروئن یا دیگر لوگوں پر دینا تا کہ فلم کشی واضح اور روشن ہو۔ فی الوقت بھائی کے سمجھانے پر ترک کردیا ہے۔ سوال یہ ھے کہ کیا یہ اسلام میں حرام ہے؟ 3. زید ٹیکسی چلاتا ہے۔ اور مسافروں کو مختلف رہائشی ہوٹلوں تک پہونچاتا ہے۔ جن ہوٹلوں تک پہونچا تا ہے ان میں کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جہاں شراب یا کبھی مطالبہ پر لڑکیا ں بھی ملتی ہیں۔ ہر قسم کے ہوٹل کے مالکین ہمیں مسافروں کو پہونچانے کی وجہ سے روپیہ دیتے ہیں حالانکہ ہم ان سے مانگتے نہیں ہیں اور نہ طے کرتے ہیں ، تاکہ ٹیکسی ڈرائیور مسافروں کو وہاں تک پہونچایا کرے۔ کیا ہوٹلوں تک مسافروں کو پہونچانا یا ان کے مالکین کی طرف سے دیے ہوئے روپیے لینا جائز ہے؟ والسلام۔

    جواب نمبر: 24029

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ھ): 1515=1125-8/1431

    (۱) قبول نہ کریں بلکہ حسن انداز سے معذرت کردیں، بیٹی کا اگر کوئی حلال اورجائز ذریعہ آمدنی کا ہو اور وہ اسی میں سے کچھ دے تو لینے کی گنجائش ہے۔ 
    (۲) اس کا حرام ہونا ظاہر ہے۔
    (۳) اگرچہ وہ رقم ملی ہوئی آپ کے حق میں حرام نہیں مگر جانتے بوجھتے ایسے ہوٹلوں میں مسافروں کو لے جاکر ٹھہرانا کہ جن میں حرام کاری ہوتی ہو سخت گناہ کا موجب ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند