• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 23675

    عنوان: آجکل ماحول ایسابناہواہے کہ بچنا مشکل ہورہاہے۔گھر والے بھی اس خلط ملط کو گناہ نہیں سمجھتے سوائے میری اہلیہ کے ، تو ہم دونوں کیا کریں؟ ہم خاموش رہتے ہیں، ان کے ساتھ نہیں ہوتے ہیں، لیکن سب لوگ ہم سے ناراض ہے کہ ہم ان کاساتھ نہیں دیتے ہیں۔ ہمیں ان سے سلوک کرنے کی ترکیب بتائیں۔

    سوال: آجکل ماحول ایسابناہواہے کہ بچنا مشکل ہورہاہے۔گھر والے بھی اس خلط ملط کو گناہ نہیں سمجھتے سوائے میری اہلیہ کے ، تو ہم دونوں کیا کریں؟ ہم خاموش رہتے ہیں، ان کے ساتھ نہیں ہوتے ہیں، لیکن سب لوگ ہم سے ناراض ہے کہ ہم ان کاساتھ نہیں دیتے ہیں۔ ہمیں ان سے سلوک کرنے کی ترکیب بتائیں۔

    جواب نمبر: 23675

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ل): 1091=810-7/1431

    واقعی آج کل کا ماحول ایسا ہوگیا ہے کہ محرم اور غیرمحرم کے اختلاط کو گناہ نہیں سمجھا جاتا اگر کوئی اختلاط سے بچتا ہے تو اس کو لعن طعن کیا جاتا ہے یہ انتہائی افسوس ناک بات ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی مکمل طور پر اس معاشرے وماحول پر صادق آرہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد ہے کہ ایک زمانہ ایسا بھی آنے والا ہے کہ معروف کو منکر اور منکر کو معروف کہا جائے گا، ایسے ماحول ومعاشرے میں انسان کو چاہیے وہ دین حق پر پوری طرح قائم رہے اورملامت کرنے والوں کی ملامت کی پروا نہ کرے، ایسے وقت میں دین پر قائم رہنے والے کے لیے بشارت وخوش خبری ہے، ایک حدیث میں ہے کہ ”جو شخص میری ایک سنت پر مضبوطی سے قائم رہا جب کہ امت سے اس سنت کا جنازہ نکل رہا ہو تو اس کو سو شہیدوں کا ثواب ملے گا“ خلاصہ یہ ہے کہ آپ دین پر قائم رہیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ سب گھروالوں سے قطع تعلق کرلیں، بلکہ حدود شرع کی رعایت کرتے ہوئے ان سے ملاقات اورخیرخواہی کرتے رہیں اور ان کو اصل مسئلہ سمجھانے کی کوشش کرتے رہیں اور ان کی اصلاح کے لیے دعا بھی کرتے رہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند