• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 23648

    عنوان: ہنسنے کے بارے میں حدیث کیا کہتی ہے؟ براہ کرم، تفصیل سے بتائیں۔ 

    سوال: ہنسنے کے بارے میں حدیث کیا کہتی ہے؟ براہ کرم، تفصیل سے بتائیں۔ 

    جواب نمبر: 23648

    بسم الله الرحمن الرحيم


    فتوی(م): 1130=1130-8/1431

    ضحک (ہنسنا) جائز اور ثابت ہے، روایات میں مختلف مواقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ضحک کی تصریح موجود ہے، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادتِ شریفہ قہقہہ لگانے کی نہ تھی، اکثر احوال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف تبسم (مسکراہٹ) فرماتے تھے، اور کبھی ہنستے بھی تھے۔ صحابہٴ کرام -رضی اللہ عنہم- کے متعلق حدیثوں میں ہے کہ وہ ہنستے تھے لیکن ایمان ان کے قلوب میں راسخ ہوتا تھا یعنی وہ آخرت سے غافل نہیں ہوجاتے تھے۔ بہت زیادہ ہنسنا اسی لیے مذموم ہے کہ اس سے دل مردہ ہوجاتے ہیں اور موت وآخرت سے تغافل کا سبب ہے: فکان صلی اللہ علیہ وسلم في أکثر أحوالہ یتبسم وکان یضحک في بعض الأحوال أعلی من التبسم وأقل من القہقہة وکان في النادر عند إفراط التعجب بدوٴ النواجذ جاریا في ذلک علی عادة البشر․․․ وکان أصحابہ أیضًا یضحکون والإیمان في قلوبہم أعظم من الجبل وأما المکروہ منہ فہو الإکثار من الضحک فإنہ یمیت القلب وذلک ہو مذموم․ (حاشیة بخاري: ۲/۹۰۰)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند