• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 23620

    عنوان: گذارش ہے کہ میں نیوزی لینڈ میں زیرتعلیم ھوں۔ یہاں پر اکثر پاکستانی طالب علم چھٹی کے دن کسی ایک بڑے سٹور میں کام کرتے ھیں جو بڑے بڑے سٹورز کو ۲۰۰ سے زیادہ خوراک کی چیزیں مہیا کرتے ہیں اور کام کرنے والوں کو ان اشیاء کو بڑے ڈبوں میں بند کرنا ہوتا ہے۔ ان اشیاء میں شراب کی بوتلیں اور کچھھاورنشہ آور اشیاء بھی ہوتی ہیں۔ ان اشیاء کی مقدار اگرچہ بہت کم ہوتی ہے لیکن بہرحال کبھی کبھی ان کو بھی اٹھانا پڑتا ہے۔ کبھی کبھارسارا دن شراب کی بوتلیں آرڈر میں نہیں آتیں اور کبھی کبھی دن میں دو تین دفعہ بھی اٹھانی پڑتی ہیں۔ آپ سے درخواست ہے کہ اس معاملے میں رہنمائی فرمتے ہوئے یہ بتا دیں کہ اس سٹور میں یہ کام کرنا جائز ہے یا ناجائز؟

    سوال: جناب محترم السلام علیکم و رحمۃ اللہ گذارش ہے کہ میں نیوزی لینڈ میں زیرتعلیم ھوں۔ یہاں پر اکثر پاکستانی طالب علم چھٹی کے دن کسی ایک بڑے سٹور میں کام کرتے ھیں جو بڑے بڑے سٹورز کو ۲۰۰ سے زیادہ خوراک کی چیزیں مہیا کرتے ہیں اور کام کرنے والوں کو ان اشیاء کو بڑے ڈبوں میں بند کرنا ہوتا ہے۔ ان اشیاء میں شراب کی بوتلیں اور کچھھاورنشہ آور اشیاء بھی ہوتی ہیں۔ ان اشیاء کی مقدار اگرچہ بہت کم ہوتی ہے لیکن بہرحال کبھی کبھی ان کو بھی اٹھانا پڑتا ہے۔ کبھی کبھارسارا دن شراب کی بوتلیں آرڈر میں نہیں آتیں اور کبھی کبھی دن میں دو تین دفعہ بھی اٹھانی پڑتی ہیں۔ آپ سے درخواست ہے کہ اس معاملے میں رہنمائی فرمتے ہوئے یہ بتا دیں کہ اس سٹور میں یہ کام کرنا جائز ہے یا ناجائز؟ شکریہ ماجد سہیل ہاشمی پی ایچ ڈی طالب علم نیوزی لینڈ

    جواب نمبر: 23620

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ھ): 1409=1050-7/1431

    اصالةً توآپ کا کام شراب کی بوتلوں کو اٹھانا رکھنا وغیرہ نہیں البتہ تبعاً کبھی کبھار اس کی نوبت آجاتی ہے اس کا حکم یہ ہے کہ اس کی وجہ سے آپ کی اجرت پر حرام ہونے حکم نہیں، آپ کے ذمہ تمام کارہائے مفوضہ پر بھی ناجائز ہونے کا حکم لاگو نہ ہوگا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند