• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 2335

    عنوان:

    کچھ عرب علماء فرماتے ہیں کہ تصویر سازی جائز ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حدیث میں جو تصویر کے متعلق حکم ہے وہ بالکل درست ہے ، لیکن آج کل کیمرہ سے جو تصاویر لی جاتی ہیں وہ ان تصاویر سے مختلف ہیں جن کا ذکر احادیث میں ہوا ہے۔ مجھے بتائیں کہ اس سلسلے میں علمائے دیوبند کیا فرماتے ہیں؟ تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں۔ واضح رہے کہ میں ایک اسلامی ادارے میں زیر تعلیم ہوں۔

    سوال:

    کچھ عرب علماء فرماتے ہیں کہ تصویر سازی جائز ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حدیث میں جو تصویر کے متعلق حکم ہے وہ بالکل درست ہے ، لیکن آج کل کیمرہ سے جو تصاویر لی جاتی ہیں وہ ان تصاویر سے مختلف ہیں جن کا ذکر احادیث میں ہوا ہے۔ مجھے بتائیں کہ اس سلسلے میں علمائے دیوبند کیا فرماتے ہیں؟ تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں۔ واضح رہے کہ میں ایک اسلامی ادارے میں زیر تعلیم ہوں۔

    جواب نمبر: 2335

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 246/ ل= 246/ ل

     

    تمام علماء امت کااس بات پراتفاق ہے کہ جاندار کی تصویر حرام اورگناہ کبیرہ ہے۔ ہندوستان کے تمام علماء یا ان کی بڑی تعداد اوربہت سے علماء عرب نے یہ فتوی دیاہے کہ عکس اورہاتھ سے نقش کی ہوئی تصویر حکم میں یکساں ہے دونوں کے درمیاں حرمت میں کوئی فرق نہیں ہے کچھ علماء عرب نے عکسی تصاویر کوشرعا منہی عنہ (ممنوع)تصاویر سے خارج قرار دیاہے لیکن اس کی ان کے پاس کوئی مضبوط بنیاد نہیں اس لیے کہ شریعت کاحکم ہے کہ جو چیز اصل حرام اورغیر مشروع ہو آلہ کے بدلنے سے اس کا حکم نہیں بدلتا مثلا شراب حرام ہے خواہ یہ شراب ہاتھ سے بنائی جائے یامشینوں سے یہی معاملہ تصویر کا ہے شریعت نے تصویر بنانے اوررکھنے سے منع کیاہے لہذا ہاتھ سے نقش کی ہوئی اورکیمرے سے لی ہوئی تصاویرمیں کوئی فرق نہ ہوگا اوردونوں ہی قسم ناجائز اورحرام ہوگی قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم :اشد الناس عذابا یو م القیامة المصورون (بخاری ۵۴۹۴/مسلم۳۹۴۳)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند