• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 23339

    عنوان: سوال یہ ہے کہ سیدھے بازو کامثانہ نہیں ہے جس کی بنا پر منی تیار نہیں ہور ہی ہے تو کیا یہ آدمی کسی دوسرے آدمی کی منی (منی بینک ) سے لے کر اپنی بیوی کے رحم میں انجکشن کے ذریعہ ڈال کر اولاد پیدا کرسکتاہے؟ اس بارے میں اسلام میں کیا حکم ہے؟ اب یہ آدمی اولا دکے لئے کیا کرے؟

    سوال: سوال یہ ہے کہ سیدھے بازو کامثانہ نہیں ہے جس کی بنا پر منی تیار نہیں ہور ہی ہے تو کیا یہ آدمی کسی دوسرے آدمی کی منی (منی بینک ) سے لے کر اپنی بیوی کے رحم میں انجکشن کے ذریعہ ڈال کر اولاد پیدا کرسکتاہے؟ اس بارے میں اسلام میں کیا حکم ہے؟ اب یہ آدمی اولا دکے لئے کیا کرے؟

    جواب نمبر: 23339

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(د):996=778-7/1431

    دوسرے کی منی انجکشن کے ذریعہ عورت کے رحم میں ڈالنا حرام ہے، یہ طریقہ ہرگز اختیار نہ کریں۔ اس شخص کو جائز کوشش وتدبیر کرنے کی اجازت ہے حرام کی نہیں۔ ناکامی کی صورت میں اسے راضی برضائے الٰہی ہوکر صبر کرنا چاہیے۔ وَلاَ تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰہُ بِہِ بَعْضَکُمْ عَلَی بَعْضٍ نیز حدیث میں ہے حرام سے دوا علاج مت کرو۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند