عنوان: برائے کرم درج ذیل سوالات کے جواب عنایت فرماویں: (۱) کیا آپریشن کے دوران ہم غیر مسلم عورتوں کا خون مسلم عورتوں کے لیے استعمال کرسکتے ہیں؟ (۲)کیا آپریشن کے دوران ہم غیر مسلم مردوں کا خون مسلم مردوں کے لیے استعمال کرسکتے ہیں؟ (۳)کیا آپریشن کے دوران ہم مسلم مردوں کا خون مسلم عورتوں کے لیے استعمال کرسکتے ہیں؟ (۴)کیا آپریشن کے دوران ہم مسلم عورتوں کا خون مسلم مردوں کے لیے استعمال کرسکتے ہیں؟ ان سوالا ت کے جوابات کی ضرورت ہم کو ہمارے حیدرآباد واقع مسلم بلڈ بینک کے لیے ہے۔
سوال: برائے کرم درج ذیل سوالات کے جواب عنایت فرماویں: (۱) کیا آپریشن کے دوران ہم غیر مسلم عورتوں کا خون مسلم عورتوں کے لیے استعمال کرسکتے ہیں؟ (۲)کیا آپریشن کے دوران ہم غیر مسلم مردوں کا خون مسلم مردوں کے لیے استعمال کرسکتے ہیں؟ (۳)کیا آپریشن کے دوران ہم مسلم مردوں کا خون مسلم عورتوں کے لیے استعمال کرسکتے ہیں؟ (۴)کیا آپریشن کے دوران ہم مسلم عورتوں کا خون مسلم مردوں کے لیے استعمال کرسکتے ہیں؟ ان سوالا ت کے جوابات کی ضرورت ہم کو ہمارے حیدرآباد واقع مسلم بلڈ بینک کے لیے ہے۔
جواب نمبر: 2203501-Sep-2020 : تاریخ اشاعت
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی(ل):868=617-6/1431
اگر خون کی شدید ضرورت ہے یعنی کسی مریض کی ہلاکت کا خطرہ ہے اور ماہر ڈاکٹر کی نظر میں اس کی جان بچنے کا اس کے سوا کوئی راستہ نہ ہو، یا ہلاکت کا خطرہ تو نہیں لیکن ماہر ڈاکٹر کی نظر میں خون دیے بغیر صحت کا امکان نہ ہو تو دوسرے کے خون کا استعمال کرنے کی مذکورہ بالا تمام صورتیں جائز ہیں، البتہ کافر یا فاسق وفاجر انسان کے خون میں جو اثرات ہیں ان کے منتقل ہونے اور اخلاق پر اثر انداز ہونے کا خطرہ قوی ہے، اس لیے نیک اور صالح انسان کو کافر وفاسق انسان کے خون سے حتی الوسع احتراز کرنا چاہیے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند