• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 18444

    عنوان:

    ہمارے ایک رشتہ دار ۵ لاکھ روپییا یک سال کی مدت پر رقم مانگ رہے ہیں اس درمیان وہایک گروانڈ زمین مفت میں دینے کا وعدہ کرتے ہیں، اس اثنا میں ایک اشکال اس بات کا ہے کہ جو زمین مفت میں مل رہی کیا وہ سود میں داخل ہوگا یا نہیں؟ برائے مہربانی معلوم کیجیے عین نوازش ہوگی، ایک سال بعد وہ کل ۵ لاکھ کی رقم واپس کردیں گے۔

    سوال:

    ہمارے ایک رشتہ دار ۵ لاکھ روپییا یک سال کی مدت پر رقم مانگ رہے ہیں اس درمیان وہایک گروانڈ زمین مفت میں دینے کا وعدہ کرتے ہیں، اس اثنا میں ایک اشکال اس بات کا ہے کہ جو زمین مفت میں مل رہی کیا وہ سود میں داخل ہوگا یا نہیں؟ برائے مہربانی معلوم کیجیے عین نوازش ہوگی، ایک سال بعد وہ کل ۵ لاکھ کی رقم واپس کردیں گے۔

    جواب نمبر: 18444

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ل): 2076=1641-1/1431

     

    قرض کے بدلے آپ کے رشتہ دار جو گراوٴنڈ (زمین) مفت میں دیں گے وہ سود ہوگا، آپ کے لیے اس زمین کا لیناجائز نہیں ہوگا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند