• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 179801

    عنوان:
    بیس ہزار چندہ وصول کرنے پر چار ہزار اُجرت مقرر کرنا 

    سوال:

    امید ہے کہ آپ حضرات خریت سے ہوں گے میرا سوال یہ ہے کہ میں ایک مدرسہ میں مدرّس ہوں اور مدرسے میں اساتذہ کو چندہ بھی کرنا پڑتا ہے اس سلسلہ میں ہمارے مدرسے کے ذمہ داروں نے یہ طے کیا ہے کہ جو استاد بیس ہزار روپیہ 20000 چندہ کرکے لائے گا اس کو چار ہزار روپیہ 4000 دیا جائیگا پھر جو جتنا چندہ جمع کرکے لاتا ہے اس کو حساب کرکے اس کی جو حق الخدمت ہوتی ہے اس کو دیدیتے ہے مثلًا دس ہزار روپیہ 10000چندہ جمع کرکے کسی استاد نے لایا تو اس کو دو ہزار روپیہ 2000 دیتے ہیں اسی طرح اگر کسی نے زیادہ لایا تو اس کو اُس حساب سے دیتے ہیں چالیس ہزار کسی نے لایا تو اس کو آٹھ ہزار روپیہ 8000 ملتا ہے تو میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ مدرسے والوں کا مذکورہ صورت اختیار کرنا درست ہے یا نہیں براہ کرم آپ حضور والا سے دوخواست ہے کہ جواب دیکر شکریہ کا موقعہ عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی۔

    جواب نمبر: 17980109-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 27-14/B=01/1442

    صورت مذکورہ میں بیس ہزار چندہ وصول کرنے پر چار ہزار اُجرت مقرر کرنا جائز نہیں۔ چندہ کرنا یعنی دوسروں کی جیب سے پیسے نکلوانا ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔ ماہانہ یا ہفتہ واری یا روزانہ کی اُجرت مقرر کرنا چاہیے یعنی مدرسہ کا مہتمم مدرس سے کہے کہ تم چندہ کرنے جاوٴ تم کو ہر ماہ میں یا ہر ہفتہ میں یا روزانہ اتنے پیسے اُجرت کے ملیں گے خواہ مدرس جتنا بھی چندہ وصول کرکے لائے۔ یہ طریقہ شرعاً درست ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند