• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 179718

    عنوان:

    مریض کی جان بچانے کے لئے مفت خون عطیہ کرنا اور رضاکارانہ رکت دان کیمپ لگانا

    سوال:

    مسئلہ یہ معلوم کرنا ہے کہ اکثر و بیشتر مریض کو خون کی ضرورت پڑتی ہے اور بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ مریض کے لئے خون عطیہ کرنے والا شخص موقع پر نہیں ملتا جس کی وجہ سے بعض دفعہ مریض زندگی سے ہار جاتا ہے ، اب ایسی صورت میں فوری طور پر اس کو مدد پدینے کے لئے یہ عمل کیا جاتا ہے کہ ایک شخص خون دینا چاہتا (بلڈ ڈونیٹ) کرنا چاہتا ہے تو اسکو بلڈ بینک کی جانب سے ایک کارڈ ملتا اس کارڈ کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس کارڈ کے ذریعے تین مہینے کے اندر کوئی بھی ضرورت مند اپنا مطلوبہ خون حاصل کرسکتا ہے یعنی اگر مریض کو خون کی ضرورت ہے تو وہ اس کارڈ کو دکھاکر اپنا مطلوبہ خون بلڈ بینک سے لے لیتا ہے اب اسکو اس آدمی کو تلاش کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی جو اسکو خون دے .. بس اس کو یہ کرنا ہوتا ہے کہ جس نے خون پہلے ڈونیٹ کیا ہوا ہے اس سے وہ کارڈ لے کر بلڈ بینک میں دکھادے تو اس کو فورا ہی خون مل جاتا ہے اور یہ بارہا کا تجربہ ہے (کیوں کہ میں اس محکمہ سے تعلق رکھتا ہوں) کہ جب مریض کو خون کی ضرورت ہوتی ہے تو خون دینے والا آدمی نہیں مل ملتا اور بلڈ بینک سے خون مفت نہیں ملتا بلکہ بھاری رقم دے کر خریدنا پڑتا جو ہر کس و ناکس کے لئے آسان نہیں ہوتا. جسکی وجہ سے بڑی مشقت ھوتی ہے تو آیا اگر کوئی شخص اپنا خون رضاکارانہ طور پر عطیہ کرکے وہ کارڈ حاصل کرلے تاکہ کسی ضرورت مند کو دیا جاسکے تو ایسا کرنا درست ہے یانہیں؟ نیز کبھی انسان اپنی مجبوری سے بھی خون نکلواتا ہے تاکہ اس کے خون کی حدت اور گرمی کم ہو سکے تو ایسی صورت میں بھی اس کا یہ خون بلڈ بینک میں جمع ھوکر کسی مریض کے کام آتا ہے . اسی طرح اگر ایسے مقصد کے لئے (بوقت ضرورت مریض کے خون کام آئے ) بلڈ کیمپ لگانا جسمیں لوگ رضاکارانہ طور پر خون عطیہ کریں، کیسا ہے ؟ کیمپ کی ضرورت اس لئے کہ بعض اوقات ایک ہی مریض کویا کئی سارے مریضوں کو بہت سے یونٹ خون کی ضرورت ہوتی ہے اور ایک دو آدمی اس ضرورت کو پورا نہیں کرپاتے تو اگر مریض کے پاس کئی لوگوں کے کارڈ ہوں تو خون بآسانی مل جاتا اور اس کو کچھ رقم بھی ادا نہیں کرنی پڑتی... اور خون عطیہ کرنے والوں سے کارڈ کا ملنا آسان ہوتا ہے بنسبت اس کے آنے سے ، کہ وہ دور ہوتا ہے بسلسلہ ملازمت وغیرہ کے ؛ تو کیا ایسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے رکت دان کیمپ لگا سکتے ہیں یا نہیں؟

    واضح ہو کہ اسلامک فقہ اکیڈمی کے چوبیسویں سیمینار منعقدہ کیرالہ بتاریخ 3 مارچ بروز شنبہ 2015 میں خون عطیہ کے متعلق کچھ تجاویز منظور ہوئی تھیں جن میں سے کچھ تجویز یہ تھیں کہ #ایسے بلڈ بینک جہاں لوگ رضاکارانہ طور پر خون عطیہ دیتے ہیں اور وہ بینک ضرورت مندوں کو مفت خون فراہم کرتے ہیں وہاں مسلمان کے لئے خون کا عطیہ کرنا جائز ہے #رضاکارانہ بلڈ کیمپ لگانا اور بلڈ بینک قائم کرنا بھی انسانی ضرورت کے پیش نظر جائز ہے . اور یہ انسانی خدمت میں شامل ہے .(بحوالہ :کتاب النوازل جلد 16 صفحہ 215 مطبوعہ المرکز العلمی لال باغ مراد آباد) اس بارے میں آپ وضاحت فرما دیں کہ مذکورہ صورتحال اور ضرورت کے پیش نظر بلڈ میں خون عطیہ کرنا اور بلڈ کیمپ لگابا درست ہوگا یا نہیں؟

    جواب نمبر: 179718

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 12-11/M=01/1442

    اگر کسی مریض کو واقعی خون کی ضرورت ہے تو شرعاً اسے خون دینے کی گنجائش ہے لیکن ضرورت پیش آنے سے پہلے خون دینے اور لینے کے لئے باضابطہ خون عطیہ کیمپ (رکت دان کیمپ) لگانا درست نہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند