• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 174078

    عنوان: صحابہ کرام پر فلم بنانا کیسا ہے؟

    سوال: صحابہ کرام پر فلم بنانا کیساہے تاکہ ان کی زندگی عوام کے سامنے آجائے؟

    جواب نمبر: 174078

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 163-36T/D=03/1441

    صحابہ کرام پر فلم بنانا ناجائز اور حرام ہے۔

    (۱) فلم بنانے میں تصویر کشی پائی جائے گی اور جاندار کی تصویر بنانا خواہ مجسمہ والی ہو یا غیر مجسمہ والی ناجائز اور حرام ہے۔ عن عائشة رضی اللہ تعالی عنہا قدم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من سفر وقد سترت بقرام علی سہرة لی فیہ تصاویر فنزعہ وقال: أشد الناس عذابا یوم القیامة الذین یتضاہون بخلق اللہ ۔

    اور کسی مسلمان کی تصویر بنانا اور بھی گناہ ہے اور محض تفریح و تلذذ کے لئے بنانا مزید گناہ میں اضافہ کا سبب ہے۔

    اور اگر اس مسلمان (تصویر) کی طرف کسی نقص یا عیب کو بھی منسوب کیا جائے تو دوسری معصیت یعنی غیبت بھی شامل ہوگئی کیونکہ غیبت صرف کلام ہی میں منحصر نہیں نقوش قلم کتابت سے بھی ہوتی ہے اسی طرح اس عیب کی ہیئت بنانے سے بھی ہوتی ہے بلکہ یہ سب سے اشد ہے۔

    اگرچہ وہ نقص اور عیب واقع میں بھی اس میں ہو تب بھی اس کی غیبت کسی بھی طرح کی جائے حرام ہے۔ عن ابی ہریرة قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتدرون ما الغیبة؟ قالوا اللہ ورسولہ اعلم قال ذکر احدکم اخاہ بما یکرہ فقال رجل أرأیت إن کان فی أخی ما أقول؟ قال: إن کان فیہ ماتقول فقد اغتبتہ وان لم یکن فیہ ماتقول فقد بہتہ (ابوداوٴد و الترمذی)

    پھر مسلمان ہونے سے بڑھ کر ان کے اندر صحابیت کا قابل احترام وصف ہے تو ان کی طرف کسی عیب یا تنقیض کی نسبت کرنا اور بھی برا ہے۔

    اگر تصویر کسی مشتہاة کی ہے تو نظربد کا گناہ مزید بڑھ جائے گا۔ لہٰذا مذکور فی السوال مقصد سے بھی صحابہ کرام کی فلم بنانا جائز نہیں بلکہ گناہوں کے ارتکاب کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہوگا۔ اس سے شریعت اسلامیہ کی کوئی ضرورت وابستہ نہیں ہے۔

    صحابہ کرام کی زندگی سے واقفیت کے لئے حیات صحابہ جیسی کتابوں کا پڑھنا اور سننا بہت مفید ہے اور یہی طریقہ توارثا زیر عمل چلا آرہا ہے ہر دور میں اسی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند