• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 174042

    عنوان: بجلی کے بل اور ٹیکسوں کی ادائیگی میں تاخیر پر لیا جانے والا جرمانہ کیا بہ حکم سود ہے؟

    سوال: کیا بجلی یا مالیہ دیر سے ادا کرنے سے جو جرمانہ عائد کیاجاتاہے تو کیا سود میں آتاہے؟

    جواب نمبر: 174042

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:158-41T/sn=3/1441

    بجلی کے بل یا جائز حکومتی مطالبات کی ادائیگی میں تاخیر پر جو جرمانہ لیا جاتا ہے وہ تعزیر مالی کے قبیل سے ہے، یہ بھی حکما ربا ہے۔ واضح رہے کہ بجلی کا بل اسی طرح حکومت کے جائز مطالبات کی ادائیگی میں تاخیر نہ کرنی چاہیے، قدرت کے باوجود ادائیگی میں تاخیر”مطل الغنی “ میں داخل ہے، جس پر احادیث میں وعید آئی ہے۔

    باب الربا ہو...شرعا (فضل) ولوحکما فدخل ربا النسیئة والبیوع الفاسدة فکلہا من الربا.....(قولہ والبیوع الفاسدة إلخ) تبع فیہ البحر عن البنایة وفیہ نظر فإن کثیرا من البیوع الفاسدة لیس فیہ فضل خال عن عوض کبیع ما سکت فیہ عن الثمن، وبیع عرض بخمر أو بأم ولد فتجب القیمة ویملک بالقبض، وکذا بیع جذع من سقف وذراع من ثوب یضرہ التبعیض، وثوب من ثوبین والبیع إلی النیروز ونحوہ ذلک مما سبب الفساد فیہ الجہالة، أو الضرر أونحو ذلک نعم یظہر ذلک فی الفساد بسبب شرط فیہ نفع لأحد العاقدین مما لا یقتضیہ العقد، ولا یلائمہ ویؤید ذلک ما فی الزیلعی قبیل باب الصرف فی بحث ما یبطل بالشرط الفاسد حیث قال: والأصل فیہ أن کل ما کان مبادلة مال بمال یبطل بالشروط الفاسدة لا ما کان مبادلة مال بغیر مال أو کان من التبرعات، لأن الشروط الفاسدة من باب الربا، وہو یختص بالمعاوضة المالیة دون غیرہا من المعاوضات والتبرعات، لأن الربا ہو الفضل الخالی عن العوض، وحقیقة الشروط الفاسدة ہی زیادة ما لا یقتضیہ العقد ولا یلائمہ فیکون فیہ فضل خال عن العوض وہو الربا بعینہ اہ ملخصا(الدر المختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) 7/ 397،ط: زکریا،دیوبند،باب الربا)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند