• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 17294

    عنوان:

    میرا سوال یہ ہے کہ میرا ایک دوست ہے وہ سعودی عربیہ میں میرے ساتھ ہوتا ہے ان کے یہاں ایک عرب ایجنٹ ہے جو پاسپورٹ آفس کے مسائل حل کرتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ تم لوگوں کو میرے پاس لایا کرو میں آپ کو کمیشن دوں گا یعنی اگر آپ ایک بندے کو لے کر آتے ہیں اور ان سے میں دس ہزار ریال لیتا ہوں تو میں آپ کو اس میں سے ایک ہزار ریال دوں گا ۔ تو کیا یہ کمیشن لینا جائز ہے کہ نہیں؟

    سوال:

    میرا سوال یہ ہے کہ میرا ایک دوست ہے وہ سعودی عربیہ میں میرے ساتھ ہوتا ہے ان کے یہاں ایک عرب ایجنٹ ہے جو پاسپورٹ آفس کے مسائل حل کرتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ تم لوگوں کو میرے پاس لایا کرو میں آپ کو کمیشن دوں گا یعنی اگر آپ ایک بندے کو لے کر آتے ہیں اور ان سے میں دس ہزار ریال لیتا ہوں تو میں آپ کو اس میں سے ایک ہزار ریال دوں گا ۔ تو کیا یہ کمیشن لینا جائز ہے کہ نہیں؟

    جواب نمبر: 17294

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ل):1793=1435-11/1430

     

    اگر وہ حضرات دھوکہ دہی سے کام نہیں لیتے ہیں، کام کو صحیح طور پر انجام دیتے ہیں تو آپ ان سے کمیشن لے سکتے ہیں۔ البتہ کمیشن کا متعین کرنا ضروری ہوگا، مثلاً دس فیصد یا بیس فیصد میرے ہوں گے، ورنہ اجرت مجہول ہونے کی وجہ سے اجارہ فاسد ہوجائے گا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند