• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 171731

    عنوان: مطلقہ بہن کے بچے کو سود ی رقم دینا

    سوال: میرے والد سرکاری ملازم تھے، اب وہ ریٹائر ہوچکے ہیں، میری بھی ابھی ملازمت نہیں ہے، میری ایک بہن طلاق شدہ ہے، کیا انٹریسٹ کی رقم کو بہن کے لڑکے کی اسکول کی فیس میں دے سکتے ہیں؟ سال 2018ء میں اسکول کی فیس والد صاحب نے اپنی ذاتی رقم سے ادا کی تھی۔

    جواب نمبر: 171731

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:1027-838/sn=11/1440

    اگر آپ کی بہن خود غریب ہے یعنی اس کی ملکیت میں حوائج اصلیہ سے زائد اور دیون سے فارغ ساڑھے باون تو لہ (612گرام 360 ملی گرام ) چاندی کی مالیت کے برابر مال نہیں ہے تو آپ اسے سود ی رقم د ے سکتے ہیں ، بعد میں وہ چاہے اپنی ضروریات میں خرچ کرے، خواہ بیٹے کی فیس میں خرچ کرے، اسی طرح اگر اس کا بیٹا خود (اگر وہ بالغ ہے)یا اس کا باپ(اگر وہ نابالغ ہے)غریب ہے تو اسے براہ راست بھی سود کی رقم دے سکتے ہیں، بس یکمشت زیادہ رقم نہ دیں ؛ بلکہ تھوڑی تھوڑی(قدر نصاب سے کم)دیں، جب وہ خرچ ہوجائے تو پھر دیدیں۔ نوٹ: مذکورہ بالا صورتوں میں اگر آپ خود بچے کی فیس اپنی سودی رقم سے جمع کردیں تو بھی کوئی حرج نہیں ہے؛ لیکن شرط یہ ہے کہ بہنوئی یا اس کے بیٹے سے اس کی اجازت لے لیں، بغیر اجازت کے جمع نہ کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند