• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 169474

    عنوان: خلاف قانون سرکار سے رقم حاصل کرنا

    سوال: میں نے ایم ایس سی میں اسکالرشپ لی تھی، جس میں کنڈیشن(شرط ) تھی کہ والدین کی انکم 30000سے زیادہ نہ ہو، میرے والد صاحب بزنس ہیں ، ان کی انکم فکس نہیں ہے، اور ان کا کام سال کے کچھ مہینوں میں ہوتاہے، اگر ہم ان مہینوں کے منافع کو اصل پہ تقسیم کریں تو ماہانہ انکم 30000سے زیادہ ہوجاتی ہے، میں نے پہلی قسط بینک سے نکلواکر اپنے والد کو دیدی ، لیکن دوسری قسط نہیں نکلوائی ، میں نے اپنے والد صاحب سے کہا کہ یہ حرام پیسے ہیں ، میں ادارے کو واپس کروں گی ، لیکن میرے والد کہتے ہیں کہ نہیں، واپس نہیں کرنا، تم دوسری قسط نکلوا لو ہم مدرسے میں دیدیتے ہیں، اور پہلی قسط کی بات نہیں کی، آپ بتائیں کہ میں اپنے والد کی یہ بات مان لوں؟ اور اگر جو پہلے والی قسط تھی اگر وہ میرے والد مجھے نہ دیں تو کیا میں خود کما کر اسے بغیر ثواب کی نیت سے صدقہ کردوں تو کیا یہ قرض اتر جائے گا ؟ جب کہ واپسی کا راستہ ہے ، مگر والد صاحب نہیں مان رہے ہیں، میری دوسری قسط بینک میں موجود ہے ،میں وہ نہیں نکلوا رہی ، میرے والد مجھ سے کہتے ہیں کہ نکلوالو ، مجھے کیا کرنا چاہئے؟ براہ کرم، رہنمائی فرمائیں۔

    جواب نمبر: 169474

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 844-726/H=07/1440

    آپ کو جب کہ یقینا معلوم ہے کہ ملنے والی رقم کا آپ کو استحقاق اصول و ضابطہ کے مطابق نہیں ہے تو ایسی صور ت میں لی ہوئی رقم کی واپسی واجب ہے اور آئندہ بغیر استحقاق والی رقم حاصل نہ کریں بلکہ وصول کرنے سے معذرت کردیں اور والد صاحب کو حکمت و نرمی نیز حسن انداز سے سمجھاتی رہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند