متفرقات >> حلال و حرام
سوال نمبر: 169330
جواب نمبر: 169330
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa:647-540/N=7/1440 (۱): اسلام میں جس طرح شخصی املاک کی چوری ناجائز ہے، اسی طرح گورنمنٹ کی املاک: بجلی وغیرہ کی چوری بھی ناجائز ہے ؛ اس لیے ہیٹر کا کنکشن براہ راست لائٹ سے جوڑ کر بجلی کی چوری کرنا ناجائز ہے اور جس قدر بجلی کی چوری کی جائے گی، اس کا ضمان واجب ہوگا؛ البتہ ہیٹر پر پکا ہوا کھانا حرام نہ ہوگا (امداد الفتاوی، ۴: ۱۴۷، سوال: ۱۸۰، مطبوعہ: مکتبہ زکریا دیوبند)اگرچہ کسی قدر کراہت سے خالی نہیں(مستفاد: شامی، ۲: ۴۴،۴۵، مطبوعہ: مکتبہ زکریا دیوبند، آپ کے مسائل اور ان کا حل جدید تخریج شدہ،۸:۳۹۳، ۳۹۴، مطبوعہ: کتب خانہ نعیمیہ دیوبند )۔ ولا یجوز حمل تراب ربض المصر الخ (الفتاوی الھندیة، ۵: ۳۷۳، ط: المطبعة الکبری الأمیریة، بولاق، مصر)، إن المحظور لغیرہ لا یمتنع أن یکون سببا لحکم شرعي الخ (تبیین الحقائق، ۶: ۳۲۴، ط: المکتبة الإمدادیة، ملتان)، والدلیل علی عدم جواز سرقة الکھرباء القومیة عدم جواز السرقة من بیت المال بغیر حق ومن الغنیمة قبل أن تقسم علی ما ھو مصرح في کتب الفقہ والفتاوی (۲):کرایہ دار لائٹ کا کچھ روپیہ کسے دیتا ہے؟ کیا وہ مکان مالک کو دیتا ہے؟ اگر مکان مالک کو دیتا ہے اور وہ مکان میں میٹر کے بغیر چوری کی بجلی استعمال کرتا ہے اور کرایہ دار جانتا بھی ہے تو کرایہ دار کو چاہیے کہ مکان مالک کو میٹر کی بجلی استعمال کرنے کے لیے کہے، اور جب اس گھر میں چوری کی بجلی ہے تو چوری کی بجلی سے ہیٹر پرکھانا پکانا جائز نہ ہوگا جیسا کہ اوپر نمبر ایک میں بھی ذکر کیا گیا۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند