• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 168458

    عنوان: مردوں کے لئے جانوروں کے بالوں سے بنی ویگ کا استعمال کیسا ہے ؟

    سوال: اما بعد کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا مردوں کے لئے جانوروں کے بالوں سے بنی ہوئی ویگ استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟ جبکہ عورتوں کے بارے میں حدیث"لعن اللہ الواصلة و المستوصلة"موجود ہے لیکن ان کے لئے جانوروں کے بالوں کو اپنی چوٹیوں میں لگانے کی اجازت ہے ، انسانوں کے بالوں کو جوڑنے کی اجازت نہیں ہے تو کیا مردوں کو اس کی اجازت ہوگی؟ بینوا و تؤجروا

    جواب نمبر: 168458

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:522-455/sn=6/1440

    اگر تزویر اور دھوکہ دہی نہ ہوتو خنزیر کے علاوہ دیگر جانوروں کے بال بہ وقت ضرورت مردوں کو لگوانے کی گنجائش ہے ؛ البتہ یہ بات ملحوظ رہے کہ اگر وہ بال سر سے الگ ہوسکتے ہوں تو وضو اور غسل میں انھیں ہٹا کر مسح کرنا یا دھونا ضروری ہوگا ورنہ وضو اورغسل درست نہ ہوگا۔

    ووصل الشعر بشعر الآدمی حرام سواء کان شعرہا أو شعر غیرہا کذا فی الاختیار شرح المختار.ولا بأس للمرأة أن تجعل فی قرونہا وذوائبہا شیئا من الوبر کذا فی فتاوی قاضی خان ․ (الفتاوی الہندیة5/358، زکریا)

    قال النووی: (فی شرح قول رسول - اللہ صلی اللہ علیہ وسلم- لعن اللہ الواشمات والمستوشمات والمتنمصات والمتفلجات للحسن المغیرات خلق اللہ الحدیث) فیہ إشارة إلی أن الحرام ہو المفعول لطلب الحسن، أما لو احتاجت إلیہ لعلاج أو عیب فی السن ونحوہ فلا بأس بہ․ (مرقاة المفاتیح مع مشکاة المصابیح :رقم4431)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند