• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 167496

    عنوان: پیکیج خریدکر اشتہارات پر کلک کرکے کمائی کرنے کا حکم

    سوال: میرا سوال یہ ہے کہ میں نیٹ پر جوب (ملازمت ) کرتاہوں، میرا کام ہے اشتہارات دیکھناجس میں پیکیج کرنا ہوتاہے، 2500کا ، پیکیج تو کمپنی والے روزانہ آپ کو 100ایڈس (اشتہارات) دیتے ہیں جس کے بعد 100روپئے ملتے ہیں روزانہ 100ایڈس کاپیکیج ، چارم مہینے کی مدت ہوتی ہے، ہر مہینہ تین ہزار بنتے ہیں ، تیس سے چالیس منٹ روزانہ 100ایدیس دیکھا جاتا تو پوچھنا یہ ہے کہ کیا یہ سود میں آتاہے یا حرام تو نہیں؟ اس میں نقصان کا اندیشہ بھی ہوتاہے اکثر کمپنی والے بھاگ جاتے ہیں۔

    جواب نمبر: 167496

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:379-548/N=1440

    سوال میں جس کمپنی کا ذکر کیا گیا ہے ، مارکیٹ میں اس طرح کی بے شمار کمپنیاں پائی جاتی ہیں اور لوگ ان کمپنیوں سے جڑکر پیسے کمارہے ہیں؛ لیکن شرعی نقطہ نظر سے ان کمپنیوں سے جڑ پیسہ کمانا درست نہیں؛ کیوں کہ کمپنی کی جانب سے روزانہ کلک کرنے کے لیے جو ۱۰۰یا۲۰۰/ ایڈ دیے جاتے ہیں اور ہر ایڈ کلک کرنے پر بہ طور معاوضہ پیسہ دیا جاتا ہے، یہ بہ ظاہر اجارہ کا معاملہ ہے ؛

    لیکن اشکال یہ ہے کہ اجارے میں اجیر سے کوئی معاوضہ نہیں لیا جاتا؛ بلکہ اجیر کو اس کے عمل پر(کسی فیس وغیرہ کے بغیر)محنتانہ دیا جاتا ہے، جب کہ اس کمپنی سے جڑ کر کام کرنے میں اجیر کو پہلے ایک موٹی رقم پیش کرنی ہوتی ہے۔نیز اس معاملہ میں روزانہ کلک کرنے کے لیے جو ایڈ دیے جاتے ہیں، وہ پیش کی گئی رقم کے مد نظر ہی ہوتے ہیں، اگر رقم زیادہ ہو تو ایڈ بھی زیادہ ہوتے ہیں اور اگر رقم کم ہو تو ایڈ بھی کم ہوتے ہیں؛ اس لیے حقیقت میں یہ اجارہ نہیں ؛ بلکہ سود وقمار (جوے) کا معاملہ ہے؛ کیوں کہ کمپنی سے جڑکر ایڈ پر کلک کرنا فی نفسہ کوئی مفید عمل نہیں ہے ، اس عمل کی وجہ سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، صرف دکھانے کے اشتہارات ہوتے ہیں ، حقیقت سے ان کا کچھ تعلق نہیں ہوتا۔ اور کمپنی سے جڑتے وقت ہر ممبر کمپنی کو جو رقم دیتاہے ، معاہدہ کی مدت مکمل ہونے تک مجموعی طور پر اضافہ کے ساتھ وہ رقم واپس بھی مل سکتی ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایڈ پر کلک کرنے کا کام کم ہو اور اصل جمع شدہ رقم بھی واپس نہ ملے، پس اضافہ یا اصل رقم کی واپسی ایک امر محتمل پر مبنی ہوئی، جس میں خطر ہے، اور یہ معاملہ نفع ونقصان کے درمیان دائر ہوا اور یہی شریعت میں قمار (جوا) ہے۔ اور اگر روزانہ پابندی کے ساتھ ایڈ پر کلک کرنے کا کام کیا جائے تو اصل رقم اضافہ کے ساتھ ملتی ہے ، پس اس میں سود بھی ہے؛ اس لیے اس طرح کی کمپنیوں سے جڑنا اور روزانہ کمپنی کے پیش کردہ ایڈ پر کلک کرکے کمائی کرنا شرعاً جائز نہیں، یہ بہ ظاہر اجارہ ہے اور حقیقت میں سود اور قمار ہے اور سود وقمار شریعت میں قطعی طور پر حرام وناجائز ہیں۔

    قال اللّٰہ تعالی:وأحل اللہ البیع وحرم الربا الآیة (البقرة: ۲۷۵)،یٰأیھا الذین آمنوا إنما الخمر والمیسر والأنصاب والأزلام رجس من عمل الشیطن فاجتنبوہ لعلکم تفلحون( المائدة، ۹۰)،عن جابر بن عبد اللّٰہ رضي اللّٰہ عنہما قال: لعن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم آکل الربوا وموٴکلہ وکاتبہ وشاہدیہ، وقال: ہم سواء (الصحیح لمسلم، ۲: ۷۲، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)،وقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:إن اللہ حرم علی أمتي الخمر والمیسر(المسند للإمام أحمد،۲: ۳۵۱، رقم الحدیث: ۶۵۱۱)،﴿وَلَا تَأْکُلُوْا أَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ﴾ أي بالحرام، یعني بالربا، والقمار، والغصب والسرقة(معالم التنزیل ۲: ۵۰)، الربا فضل خال عن عوض بمعیار شرعي مشروط لأحد المتعاقدین في المعاوضة (تنویر الأبصار مع الدر والرد، کتاب البیوع، باب الربا، ۷: ۳۹۸- ۴۰۱، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، لأن القمار من القمر الذي یزداد تارةً وینقص أخری، وسمی القمار قمارًا؛ لأن کل واحد من المقامرین ممن یجوز أن یذہب مالہ إلی صاحبہ، ویجوز أن یستفید مال صاحبہ، وہو حرام بالنص(رد المحتار، کتاب الحظر والإباحة،باب الاستبراء، فصل في البیع، ۹: ۵۷۷، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند