• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 156856

    عنوان: قادیانی ڈاكٹر سے علاج كرانا؟

    سوال: ہم علاج کے لیے ایک ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں جو قادیانی(احمد ی) ہے، سوال یہ ہے کہ از روئے شروع اس سے علاج کرانا درست ہے یا نہیں؟

    جواب نمبر: 156856

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:321-256/N=3/1439

    قادیانی جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں ، وہ بعض ضروریات دین کا انکار کرنے کی وجہ سے کافر ومرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں، بلا ضرورت ومجبوری یا دینی مصلحت عام حالات میں ان سے کسی بھی طرح کے روابط وتعلقات رکھنا درست نہیں (امداد المفتین ۲: ۱۰۲۴، ۱۰۲۵، فتاوی ختم نبوت ۱: ۴۳۵بحوالہ: فتاوی محمودیہ، فتاوی ختم نبوت ۱: ۴۹۶بحوالہ: فتاوی حقانیہ ۵: ۳۳۴، احسن الفتاوی ،۷: ۳۴۰)؛ لہٰذا آپ قادیانی ڈاکٹر سے اپنا علاج نہ کرائیں؛ بلکہ کسی اور ڈاکٹر سے علاج کرائیں جو قادیانی وغیرہ نہ ہو۔

    عن عمرقال:قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:” لا تجالسوا أھل القدر ولا تفاتحوھم“ رواہ أبو داود (مشکاة المصابیح، ص ۲۲، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)، وعن أنس قال:قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:”إن اللہ اختارني واختار لي أصحابي وأصھاري، وسیأتي قوم یسبونھم وینتقصونھم فلا تجالسوھم ولا تشاربوھم ولا توٴاکلوھم ولا تناکحوھم“ (عق )۔ (کنز العمال ۱۱:۲۴۱ط دار الکتب العلمیة،بیروت)۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند