• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 156805

    عنوان: جو پیسے انكم ٹیكس كے نام پر كٹ جاتے ہیں كیا اس كے بدلے سود كے پیسے لیے جاسكتے ہیں؟

    سوال: میں ایک سرکای محکمہ میں کام کررہاہوں، میری سالانہ تنخواہ پر میرے اکاؤنٹ سے 1,00,000 سے 1,20,000 تک روپئے انکم ٹیکس کے نام پر کٹ جاتے ہیں، اور سال میں دو یا تین مرتبہ بینک ہمیں سود دیتاہے تو کیا ہم اس سودی رقم کو لے سکتے ہیں؟

    جواب نمبر: 156805

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:286-233/N=3/1439

    انکم ٹیکس شریعت کی نظر میں ایک ناروا اورنا حق ٹیکس ہے ؛ اس لیے آپ کی تنخواہ سے جس قدر انکم ٹیکس کٹتا ہے، آپ سرکاری بینک کے انٹرسٹ سے اتنی رقم اپنے استعمال میں لاسکتے ہیں، شرعاً گنجائش ہے(امداد المفتین ص ۷۰۶، سوال: ۷۴۳، مطبوعہ: دار الاشاعت کراچی)۔

    مستفاد: فإذا ظفر بمال مدیونہ لہ الأخذ دیانة؛ بل لہ الأخذ من خلاف الجنس (رد المحتار، کتاب السرقة، مطلب في أخذ الدائن من مال مدیونہ من خلاف جنسہ ۶: ۱۵۷،ط : مکتبة زکریا دیوبند)۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند