• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 153477

    عنوان: حرام پیسے جو نفع ہوا اس کا لینا اور اپنی ضروریات میں استعمال کرنا كیسا ہے؟

    سوال: زاہد کے پاس 50000 روپے سود کے تھے ، زاہد نے اس سود کی رقم سے ایک زمین خریدی 4 سال بعد اس زمین کی قیمت 200000 روپے ہو گی ، زاہد نے وہ زمین 200000 روپے میں فروخت کردی ارو اس میں سے سود کے 50000 روپے الگ کردے اور باقی بچے 150000 روپے اپنے استعمال میں لیے ، تو شریعت کے مطابق زاہد کا ایسا کرنا کیسا ہے ؟

    جواب نمبر: 153477

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 1237-1375/B=1/1439

    حرام پیسے کسی جائز تجارت میں لگائے، پھر اس سے جو نفع ہوا اس کا لینا اور اپنی ضروریات میں استعمال کرنا درست ہے وہ حرام نہیں ہے لیکن ایسا اقدام کرنا درست نہیں ہے۔ لہٰذا پچاس ہزار سودی رقم سے آپ نے جو زمین خریدی اور دو لاکھ میں فروخت کی تو ڈیڑھ لاکھ کا منافع اپنے استعمال میں لانا درست ہے، البتہ بچنا احوط ہے۔ ہاں وہ پچاس ہزار کی رقم سود کی ناپاک اور حرام ہی رہے گی، اس کو بلانیت ثواب بہت زیادہ غریب محتاج لُٹے پٹے لوگوں پر تصدق کردینا ضروری ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند