• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 153473

    عنوان: نیوز چینل میں کام کرنے والے شخص کی تنخوا جائزہے یا نا جائزہے ؟

    سوال: آپ سے سوال یہ ہے کہ کیا نیوز چینل میں کام کرنے والے اینیمیٹر اور گرافک ڈیزائنر ( Graphic Designer & Animator) کی تنخوا جائز ہے اور کیا وہ کسی مسجد میں چندہ دے سکتا ہے ؟ ہمارے دفتر سے ملحق جامع مسجد کے امام صاحب نے فرمایا کہ ایسے شخص کے پیسے مسجد میں استعمال نہیں کیے جا سکتے مگر ساتھ ہی ہم میں سے کچھ لوگوں سے وہ مسجد کے امور چلانے کی غرض سے ماہانہ چندہ وصول کرتے ہیں (یاد رہے ے ہ وہ ہی Graphic Designer & Animatorہیں جن کی تنخواہ کو امام صاحب خود ہی نا جائز قرار دے چکے ہیں) اس بارے میں شرعی حکم کیا ہے ؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر یہ پیسے ناجائز ہیں اور مسجد کے استعمال میں نہیں لائے جا سکتے تو کیا وہ شخص بھی گناہگار ہو گا جس کے ذمہ یہ چندہ جمع کر کے امام صاحب تک پہنچانے کا کام ہے ؟ نوٹ: اینیمیٹرکا کام مختلف کھلاڑیوں اور سیاستدانوں بشمول خواتین ، کی تصاویر انٹرنیٹ سے ڈان لوڈ کر کے کمپیوٹر پر استعمال کرتے ہیں جو کہ ٹی وی پر چلتی ہیں۔ گرافک ڈیزائنر کا کام یہ ہے کہ وہ بھی مختلف کھلاڑیوں اور سیاستدانوں بشمول خواتین ، کی تصاویرکو استعمال کرتے ہیں جو کہ بعد ازاں اخبارات میں چھپتی ہیں اور ٹی وی پر بھی چلتی ہیں۔

    جواب نمبر: 153473

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 1236-1271/B=1/1439

    مذکورہ بالا دونوں شخص تصویروں کا استعمال کرتے ہیں :

    اینیمیٹر: مختلف کھلاڑیوں کی، سیاستدانوں کی اور عورتوں کی تصویروں کو انٹرنیٹ سے ڈاوٴن لوڈ کرکے کمپیوٹر پر استعمال کرتا ہے جو کہ ٹی وی پر چلتی ہیں۔ اور گرافک ڈیزائنر کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ بھی مختلف کھلاڑیوں اور سیاست دانوں کی نیز عورتوں کی تصاویر کو استعمال کرتا ہے جو بعد میں اخبارات میں بھی چھپتی ہیں اور ٹی وی پر بھی چلتی ہیں، دونوں حضرات تصویروں کو ڈاوٴن لوڈ کرتے ہیں اور اس کی اشاعت وتشہیر کرتے ہیں، اسلام میں یہ دونوں چیزیں ممنوع اور ناجائز ہیں، ناجائز کام کرکے اس سے جو آمدنی کمائی جائے وہ بھی ناجائز ہوگی، مسلمان کو چاہیے کہ کوئی پاک اور صاف ستھرا کام کرے اور خالص حلال کمائی کمائے۔ ناجائز کام میں تعاون بھی کراہت سے خالی نہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند