• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 152225

    عنوان: والد صاحب گھر کا خرچ رشوت کے پیسوں سے چلاتے ہیں، ہمارے لیے کیا حکم ہے؟

    سوال: میرے والد صاحب ۱۸/ پیمانہ (گریڈ) کے سرکاری ملازم ہیں۔ وہ ۲۰/ سال سے دل کے مریض ہیں اور بیماری کی وجہ سے ہفتہ میں ۶/ دن میں سے صرف ۳/ دن دفتر جاتے ہیں، ایسے میں ان کی کمائی کا کیا حکم ہے؟ دوسری بات یہ کہ وہ رشوت لیتے ہیں اور رشوت کی کمائی سے گھر چلاتے ہیں ، تنخواہ استعمال نہیں کرتے، ہم لوگوں نے منع بھی کیا لیکن وہ باز نہیں آتے، ایسے میں ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ میں خود بھی نوکری کرتی ہوں اور میری اچھی تنخواہ ہے لیکن گھر کا سب خرچ ابو چلاتے ہیں اور کپڑے بھی وہی لاتے ہیں۔ اب آپ مجھے بتلائیں کہ کیا کرنا چاہئے؟ کیا میرے لیے ان کی کمائی استعمال کرنا صحیح ہے؟ میں نے ایک اور جگہ سے فتوی پوچھا تھا تو انہوں نے کہا ہے کہ میں ان کی حلال کمائی یعنی ان کی تنخواہ کے برابر رقم سے عشر (usr) کر سکتی ہو یہ سمجھ کر کہ میں کمائی میں سے اپنا حق کھا رہی ہوں۔ اور یہ بتائیں کہ حرام کھانے والے کی صرف دعا قبول نہیں ہوتی یا کوئی بھی عبادت جیسے نماز کے اذکار اور صبح و شام کے اذکار اور آیت الکرسی وغیرہ کچھ بھی قبول نہیں ہوتی۔ براہ کرم جلد جواب دیں، میں بہت ٹینشن میں ہوں۔

    جواب نمبر: 152225

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 1125-1035/H=10/1438

    ٹینشن میں تو رہنے کی کچھ ضرورت نہیں بے غبار صورت یہ ہے کہ آپ کی جب کہ الحمد للہ معقول آمدنی ہے تو اپنے اخراجات کو علیحدہ سے انجام دیا کریں، والد صاحب کی آمدنی میں سے اپنا کوئی خرچہ وابستہ نہ رکھیں البتہ آپ نے جو پہلے فتویٰ کہیں سے حاصل کیا ہے اس کو منسلک کرکے سوال دوبارہ کرلیں تو بہتر ہے، اگر فتوی کی نقل بھیجیں تو صاف نقل بھیجیں اس کے بعد ان شاء اللہ مزید رہنمائی تفصیل سے کردی جائے گی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند