• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 151027

    عنوان: فرضی بل بنواکر کمپنی سے پیسے لینا

    سوال: محترم جناب مفتیان صاحبان میں ایک عمانی کمپنی میں کام کرتا ہوں, کھانا کمپنی دیتی ہے لیکن جب اپنی جگہ سے باہر یعنی دوسرے لوکیشن(جگہ ) میں جاتے ہیں تو کمپنی والے بولتے ہیں کہ آپ اپنے پیسوں سے کھانا کھا لیں ہم پیسہ دیدیں گے ،لیکن کبھی کبھی ہم لوگ دوسرے لوکیشن چلے جاتے ہیں مگر کھانا نہیں کھاتے یا تو بھوک نہیں ہوتی یا کام کی وجہ سے ٹائم نہیں ملتا تو کام ہونے کے بعد سب دوست مجھے بولتے ہیں کہ آپ کسی رسٹورنٹ سے بل بنا لو سب لوگوں کا اور سب کو اپنا اپنا پیسہ دے دو یاکبھی وہ سب لوگ مجھے بولتے ہیں کہ آپ خود لے لیں میں دینے کی کوشش کرتا ہوں مگر وہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ لے لو۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کمپنی سے پیسہ لینا ہمارے لئے حلال ہوگا یا حرام؟ مہربانی ہوگی اگر آپ جلد از جلد جواب دے دیں۔ دوسروں کا پیسہ میں لوں ان لوگوں کی مرضی سے وہ میرے لیئے حلال ہوگا یا حرام؟

    جواب نمبر: 151027

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 1135-1238/L=10/1438

    اگر کمپنی باہر جانے کی صورت میں کھانا کھانے پر ہی رقم دیتی ہو تو نہ کھانے کی صورت میں فرضی بل بنواکر کمپنی سے پیسے لینا جائز نہ ہوگا،اور جب پیسہ لینا جائز نہ ہوا تو دوسروں کے پیسے لینا بھی جائز نہ ہوگا۔اگر کمپنی یومیہ حساب سے رقم دیتی ہوخواہ آدمی کھائے یا نہ کھائے تو اس کی وضاحت کرکے سوال کیا جائے اور بہتر ہے کہ اگر کمپنی کا اس سلسلہ میں کوئی ضابطہ ہو تو اس کو بھی ذکر کیا جائے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند