• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 148323

    عنوان: انٹرنیٹ پر صحت کے حوالے سے نسخہ جات بتانا خوبصورتی کے نسخے بتانا جنسی مسائل کے نسخے بتانا

    سوال: کاروبار کے حلال یا حرام ہونے کے بارے معلوم کرنا،کاروبار کی تفصیل،اس کاروبار میں ہم تین آدمی شریک ہیں میں ، میرا دوست اکرم اور میرا دوست نعیم، میرے دوست اکرم کا کام انٹرنیٹ پر صحت کے حوالے سے نسخہ جات بتانا خوبصورتی کے نسخے بتانا جنسی مسائل کے نسخے بتانا،ساتھ یہ بھی بتانا کہ اگر آپ کوئی بنا بنایا نسخہ ہم سے لینا چاہتے ہیں تو ہمارے موبائل نمبر پر رابطہ کریں اب وہان پر نمبر میرے دوست نعیم کا دیا ہوا ہے ۔میرا دوست اکرم نیٹ پر ہر روز یہی کام کرتا رہتا ہے ،میرے دوست نعیم کا کام لوگ انٹرنیٹ پر نسخے کے ساتھ موبائل نمبر دیکھتے ہیں تو رابطہ کرتے ہیں۔اب یہ نمبر میرے دوست نعیم کا ہے دوست نعیم نے کلینیکل اسسٹنٹ کا کورس کیا ہوا ہے ۔ جو بھی رابطہ کرتا ہے میرا دوست اس سے صحت کے حوالے سے پوری تفصیل لیتا ہے اور اپنے پاس نوٹ کرتا ھے ۔ اور ان کو بتاتا ہے کہ ہم آپ کو پورا نسخہ مثال کے طور پر 3500 میں بھیج دیں گے آپ اپنا ایڈریس ہمیں میسج کر دیں،میرا کام میرے والد صاحب حکیم ہیں انہوں نے 1980 میں فیصل آباد سے فاضل طب و جراحت مکمل کیا تھا اور پھر آج سے دوسال پہلے تک مطب چلاتے رہے ہیں اور اب مطب بند کر کے نماز روزہ تسبیحات کرتے رہتے ہیں ۔مریض کی تفصیل جو میرے دوست نعیم کے پاس ہے وہ مجھے بتاتا ہے میں وہ تفصیل والد صاحب کو بتاتا ہوں اور ہم مشورہ کرتے ہیں کہ کیا دوائی بھیجی جائے ۔ دوائی میں اور والد صاحب گھر پر خود تیار کرتے ہیں،جو دوائی مشورہ میں طے پاتی ہے وہ ہم مریض کے ایڈریس پر پارسل کر دیتے ہیں بعض اوقات مریض ہمیں پہلے ہی پیسے بھیج دیتا ہے یا پھر ہم اسے وی پی پارسل کرتے ہیں جب دوائی وصول کرتا ہے پیسے بھیج دیتا ھے ۔مریضوں میں سے کچھ لوگ دوائی لے کے رابطہ ہی نہیں کرتے ۔ کچھ بتاتے ہیں کہ ہمیں دوائی سے فائدہ ہوا ہے کچھ بتاتے ہیں ہمیں فائدہ نہیں ہوا۔ایک کو فائدہ ہوا اس نے ہمیں گفٹ بھی بھیجا ہے ،شریعت کی رو سے اس کاروبار کی آمدنی جائز ہے ناجائز ہے مہربانی فرمائیں اور جتنا جلدی ہو سکے مجھے اس کا جواب بھیج دیں بندہ آپ کا مشکور ہو گا،مزید کوئی تفصیل پوچھنا چاہیں تو4253576- 0344پر میسج کر دیں میں رابطہ کر لوں گا ۔

    جواب نمبر: 148323

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:  290-525/N=6/1438

    سوال میں کاروبار کی جو تفصیل ذکر کی گئی ہے، اس میں بہ ظاہر کوئی شرعی خرابی معلوم نہیں ہوتی بہ شرطیکہ تمام کام ذمہ داری اور امانت و دیانت داری کے ساتھ کیے جائیں؛ البتہ مریض سے صرف زبانی تفصیلات معلوم کرکے مرض کی تشخیص اور دوا تجویز کرنا بعض عام بیماریوں میں تو مفید ہوسکتا ہے، تمام بیماریوں میں نہیں۔علاج ومعالجہ کا صحیح اور محتاط طریقہ یہی ہے کہ مریض کا طبیب سے براہ راست رابطہ ہو اور نبض اور جسم کی مختلف علامات کی روشنی میں مرض کی تشخیص کی جائے ؛ کیوں کہ ہر مریض اپنے مرض کی صحیح نوعیت بتانے پر قادر نہیں ہوتا، طبیب کو مریض کی نبض اور مرض کی ظاہری علامات اور اثرات وغیرہ کی روشنی میں مرض کی صحیح نوعیت تک پہنچنا ہوتا ہے ؛ اس لیے اگر آپ کے والد صاحب حسب سابق باقاعدہ مطب کریں اور مریضوں کو دیکھ کر مرض کی تشخیص اور حسب حال ومزاج مریض دوا تجویز کرکے علاج کریں تو یہ زیادہ بہتر ہے۔ اور یہ ضروری نہیں کہ وہ صبح سے شام تک پورا وقت مطب میں دیں، دن میں مطب چلانے کے لیے چند گھنٹے بھی کافی ہیں، اوقات متعین کرلیں ،اور وہ اپنا باقی وقت ذکر واذکار وغیرہ میں گذاریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند